مردانِ خدا — Page 67
مردان خدا ۶۷ حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب کی بجائے میرے نام کی تبدیلی کے لئے براہ راست اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر میں رپورٹ بھیج دی۔اکا ؤنٹنٹ جنرل ان دنوں ایک انگریز مسٹر بڈلف صاحب ہوا کرتے تھے ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہ تھی کہ کون ہندو ہوتا ہے اور کون مسلمان۔انہوں نے کاغذات میں میرا نام تبدیل کر کے عبدالرحیم درج کرا دیا۔چنانچہ عبد الرحیم کے نام سے تنخواہ برآمد ہونے لگی اُدھر ناظم صاحب نے اپنے دفتر میں حکم دے دیا کہ سروس بک میں میرا نام درج کر دیا جائے۔ہیں۔( رفقاء احمد : جلد : ۱۰ صفحه ۶۰ تا ۶۲) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور امتحان اور کامیابی حضرت شیخ عبدالرحیم صاحب اپنے ایک اور ابتلاء کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے چونگی خانہ کے ایک کمرہ میں میں رہتا تھا۔سردیوں کے دن تھے۔ایک دفعہ میں سخت بیمار ہو گیا۔سخت تیز بخار تھا۔میں اکیلا پڑا گھبرا گیا۔دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ (احمدی ) ہو کر تم نے کیا لیا ؟ اب بیمار پڑے ہو پاس پانی دینے والا بھی نہیں۔بہن، بھائی، والدہ، بیوی بچے سب ہی ہیں لیکن کوئی تمہارے منہ نہیں لگتا۔کیا ہندورہ کر تم خدا کی عبادت نہیں کر سکتے تھے۔بت پوجا بے شک نہ کرتے۔مگر رام اور رحیم میں تو کوئی فرق نہیں۔وہ تو ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔ہندورہ کر رام رام جیتے تو کیا تھا۔غرض اسی قسم کے خیالات دماغ میں چکر لگانے لگے لیکن میرے رب نے گرتا دیکھ کر پھر مجھ کو سنبھالا اور میرے دل میں یکلخت تحریک پیدا ہوئی کہ یہ سب شیطانی وساوس ہیں تم کو دعا اور استغفار کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے لحاف میں ہی تیم کر کے نماز پڑھنی شروع کر دی اور دعا کی۔الہی !