مردانِ خدا

by Other Authors

Page 66 of 97

مردانِ خدا — Page 66

مردان خدا حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب اپنی والدہ کو روتے ہوئے پاتا۔اکثر تو روتے روتے ان کی گھگی بندھ جاتی۔اور دور تک ان کے رونے کی آواز سنائی دیتی مجھ کو بہت تکلیف ہوتی مگر برادری کے ڈر سے ہم نہ مل سکتے تھے ایک عرصہ اسی طرح ہوتا رہا۔والدہ صاحبہ کی حالت دن بدن خراب ہونے لگی۔مجھ سے یہ برداشت نہ ہو سکا میں نے سوچا کہ کسی طرح والدہ صاحبہ سے ملاقات کر کے ان کی دلجوئی کرنی چاہئے۔ہمارے پڑوس میں کچھ گھر مسلمان نیل گروں کے تھے۔میں نے ایک مسلمان عورت کی وساطت سے والدہ صاحبہ کو کہلا بھیجا کہ میں رات کو فلاں مسلمان کے مکان پر آؤں گا۔آپ بھی چھپ کر آجائیں وہاں ہم مل لیں گے۔والدہ صاحبہ تو پہلے ہی بے قرار تھیں انہوں نے رضا مندی کا اظہار کر دیا۔کافی رات گزرے میں وہاں گیا والدہ صاحبہ بھی چھپ کر آ گئیں۔بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں اور اس طرح ہماری ملاقات ہونے لگی۔جن دنوں میں نے ( دین حق ) کا اعلان کیا اس وقت مہاراجہ پٹیالہ ابھی کمسن تھے اور کونسل آف ایجنسی کا زمانہ تھا۔ریاست میں مذہبی آزادی نہ تھی۔اگر کوئی سرکاری ملازم مذہب تبدیل کر کے ( دین حق میں داخل ) ہو جاتا تو اس کو ملازمت سے برطرف کر دیا جاتا تھا۔چنانچہ ہندو میری برطرفی کے منتظر تھے۔لیکن خدا تعالیٰ کا ایسا تصرف ہوا کہ جب میں نے اس امر کی رپورٹ افسران کو کی کہ میں نے برضاء ورغبت (احمدیت کو ) قبول کر لیا ہے۔اس لئے کاغذات سرکاری اور سروس بک میں میرا نام کشن لعل کی بجائے عبدالرحیم درج کر لیا جائے۔ان دنوں ہمارے شہر میں ہند و تحصیلدار کی بجائے ایک مسلمان تحصیلدار غلام محی الدین خان تبدیل ہو کر آگئے تھے تبدیل مذہب کے متعلق ایکشن لینا ناظم صاحب دیوان صاحب ( یعنی کمشنر ) کے اختیار میں تھا یعنی ناظم کی سفارش پر دیوان صاحب ملازمت سے برطرف کر سکتے تھے لیکن ہوا یہ کہ جو نبی میری درخواست تحصیلدار صاحب کی طرف سے ناظم صاحب کی خدمت میں بھجوائی گئی انہوں نے دیوان صاحب کی خدمت میں رپورٹ کرنے