مردانِ خدا

by Other Authors

Page 65 of 97

مردانِ خدا — Page 65

مردان خدا حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب میں چاہتا تو تاجروں کو کافی تنگ کر سکتا تھا۔ان دنوں قانون ایسے تھے کہ باجود چونگی میں محصول ادا کر دینے کے دکاندار مال کو اس وقت تک کھول نہیں سکتے تھے جب تک داروغہ چونگی خود یا اس کا کوئی نمائندہ آ کر تصدیق نہ کر دیتا تھا کہ مال کے مطابق محصول ادا کیا گیا ہے اور اگر کوئی دکاندار دروغہ کی تصدیق سے قبل مال کھول دیتا تھا تو وہ مستوجب سزا و جرمانہ ہوتا تھا۔اور داروغہ چونگی کو یہ اختیار ہوتا تھا کہ اگر کوئی شخص بغیر محصول چونگی ادا کئے شہر میں داخل ہو جائے تو وہ چہار چند تک محصول چونگی وصول کر لے۔ہمارے قصبہ میں اکثر ہندو تاجر پیشہ تھے اس لئے ان کو مجھ سے کچھ دبنا پڑتا تھا۔براہ راست تو وہ مجھ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے تھے لیکن میری والدہ صاحبہ اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی طرح بعض غریب احمدیوں کو انہوں نے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ہماری برادری نے فوراً میری والدہ صاحبہ اور میرے بھائی صاحب کا بائیکاٹ کر دیا کیونکہ میرے خُسر نے برادری کی پنچایت میں میری والدہ صاحبہ پر یہ الزام لگایا کہ ان کے ایماء اور مدد سے کشن لعل میری لڑکی کو (احمدی) کرنے لگا تھا۔اگر میری والدہ مخالفت کرتیں اور کشن لعل کو علیحدہ نہ ہونے دیتیں تو وہ (احمدی) نہیں ہوسکتا تھا۔غرض ایک عرصہ تک ہماری برادری نے والدہ صاحبہ اور ہمارے خاندان کا بائیکاٹ رکھا۔آخر بعض لوگوں کی سفارش سے بڑی مشکل سے ہمارے خاندان کو معافی ملی اور اس شرط پر ان کو برادری میں داخل کیا گیا کہ وہ سب مجھ سے قطع تعلق رکھیں گے میری والدہ کو مجبوراً یہ شرط ماننا پڑی۔برادری کے ڈر سے نہ ہی میں والدہ کو مل سکتا تھا اور نہ میری والدہ مجھ سے مل سکتی تھیں۔میری والدہ صاحبہ کو مجھ سے بے حد محبت تھی۔وہ میری جدائی کو برداشت نہ کر سکتی تھیں اور روتی رہتی تھیں۔شام کو دفتر بند کر کے جب میں (احمد یوں) کے ہمراہ احمدیہ ( بيت الذکر ) کو جاتا اور اپنے محلہ کے پاس سے گزرتا۔میری والدہ مجھ کو دیکھنے کیلئے بازار کے ایک طرف کھڑی ہو جاتیں۔یہ نظارہ بہت تکلیف دہ ہوتا۔جب میں ادھر سے گزرتا تو