مردانِ خدا — Page 64
مردان خدا ۶۴ حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب رہوں گی میں اپنے والدین کو نہیں چھوڑ سکتی۔یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔مجھے کو اس کی ایسی حرکت سے بہت صدمہ ہوا۔دل میں کہا۔اے عورت میں تیری خاطر رُکا ہوا تھا جب تو نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو اب مزید توقف کی ضرورت نہیں۔میں نے اسی وقت تین چار قلمی اشتہار لکھے ان میں لکھا کہ میں اپنی خوشی سے ( دین حق ) قبول کرتا ہوں۔آج سے کوئی شخص مجھے ہندو نہ سمجھے۔لیئی بنائی اور رات کو گیارہ بجے کے قریب جبکہ کاروبار بند ہو جاتے ہیں اور بازاروں میں آمد و رفت نہیں رہتی شہر کی مختلف گلیوں پر جا کر اشتہاروں کو چسپاں کر آیا۔آپ کے اس حال پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت باوا نانک صاحب کے متعلق فرمائے گئے یہ اشعار خوب صادق آتے ہیں۔کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھنا نماز پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش تعشق سے سے جاتے رہے اس کے ہوش ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ تو مجھ ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ حضرت شیخ صاحب اس کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔صبح ہوئی تو یہ خبر شہر میں آنا فانا پھیل گئی کہ کشن لعل داروغہ (احمدی ) ہو گیا ہے۔ہند و مجھ کو تو کچھ نہ کہہ سکے کیونکہ ان دنوں داروغہ چونگی کو بہت کچھ اختیارات ہوتے تھے۔