مردانِ خدا — Page 61
مردان خدا ۶۱ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے خط سنانے کا حق ادا بھی کر دیا اور وہ خط ایسا موثر ثابت ہوا کہ والدہ محترمہ زار و قطار رونے لگیں اور اس جگہ عہد کر لیا کہ آئندہ اس طریق کو قطعی طور سے ترک کر دیں گے۔چنانچہ مجھے جواب بھی بہت معقول اور تسلی بخش دیا۔اچھا بیٹا جیتے رہو۔تمہاری طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی رہے۔ہونا تھا جو ہو چکا اب پرمیشور سے تو لڑ انہیں جاسکتا۔یہ خدا کا حض فضل تھا۔كُلُّ اَمْرٍ مَرُهُونٌ بِأَوْقَاتِهَا والی بات ہے۔خط ٹھکانے لگا اور اس طرف سے قصہ ہمیشہ کیلئے ختم ہی ہو گیا“۔( حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی: صفحه ۵۲ تا۱۲۲)