مردانِ خدا — Page 60
مردان خدا حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی خدمت میں لکھا جس میں اپنے ( دین حق ) لانے کی وجوہات پر خود ان کی اپنی ضمیر کو بطور شاہد و گواہ پیش کرتے ہوئے اپنے حالات و اخلاق کی طرف بھی ان کی توجہ مبذول کرائی اور بالاخر یہ لکھا کہ ان حالات میں خود آپ کا دل جانتا ہے کہ (دین حق ) کے معاملہ میں مجھ پر نہ کسی نے دباؤ ڈالا ہے اور نہ ہی کوئی طمع اور بداخلاقی اس کی محرک ہوئی ہے بلکہ ( دین حق ) کی خوبیوں اور اس کے برکات نے میرے دل بلکہ دل کی گہرائیوں پر اثر کر کے میرے قلب کو فتح کر لیا ہے۔اس صورت میں کیونکر ممکن ہے کہ آپ لوگ میرے دل سے اس بات کو نکال سکیں۔زیادہ سے زیادہ آپ میرے جسم اور گوشت پر قابو پاسکتے ہیں مگر اس کے یہ معنی نہ ہونگے کہ آپ میرے دل سے ( دین حق ) کو نکال دینے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔اوّل تو آپ کو اپنا سابقہ تجربہ ہی اس امر کے سمجھ لینے کیلئے کافی معاون تھا کہ آپ لوگ باوجود ہزاروں روپیہ بے دریغ لٹا دینے اور مہینوں نہیں سالوں سرگردانی کے سبب مجھ پر قابو نہیں پاسکے۔اس سے سبق حاصل کر کے خدا کی مرضی پر راضی ہو رہتے۔مگر بفرض محال اگر مان بھی لیا جائے کہ کبھی آپ مجھے میری مرضی کے خلاف لے جانے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو پھر کیا ہوگا ؟ ( دین حق ) میرے رگ وپے اور خون میں خدا کے فضل سے اس طرح رچ چکا ہے کہ اگر آپ لوگ میرے جسم کے ٹکڑے بھی کر دیں اور ان ٹکڑوں کا قیمہ بھی بنا دیں تب بھی انشاء اللہ ہر ذرہ سے (کلمہ طیبہ ) کی صدا بلند ہوگی۔جسم مغلوب ہو سکتے ہیں اور طاقت یا ظلم سے اس پر فتح پائی جاسکتی ہے مگر قلوب کا فتح کرنا صداقت دراستی کے سوا ناممکن ہے وغیرہ وغیرہ والدہ صاحبہ کا رد عمل مصلحت الہی سے میرا یہ خلا والدہ محترمہ کو جب پہنچا والد صاحب گھر پر نہ تھے بلکہ کہیں گئے ہوئے تھے اور طرفہ یہ کہ خط والدہ محترمہ نے پڑھوایا تو کسی مسلمان سے۔جس