مردانِ خدا — Page 54
مردان خدا ۵۴ حضرت بھائی جی عبد الرحمن صاحب قادیانی حربہ کارگر نہ ہوا تو اس ذریعہ سے مطلب براری کی کوشش کر سکیں کیونکہ مجھے عزیز سے بہت محبت تھی اور عزیز بھی چونکہ میری گودیوں کا پلا تھا اس کو مجھ سے بے حد انس تھا۔چنا نچہ ایسا ہوا کہ جب ان کی پہلی تدبیر بیکار ثابت ہوئی تو عزیز کو ( جسے انہوں نے ابھی میرے سامنے نہ کیا تھا) لے آئے۔عزیز میرے پاس آتے ہی زار و قطار رونے لگا اور اس کی بلبلا ہٹ اور چیخ و پکار سے فطرتا میرا دل بھی بھر آیا مگر میں نے دل مضبوط کیا۔اپنے حواس کوسنبھالا اور دشمن کی اس چال کے شر سے بچنے کیلئے خدا سے مدد مانگی تھوڑی دیر میں عزیز کی طبیعت بھی سنبھل گئی اور میں نے اس کے بہلانے کیلئے کئی قسم کے سامان مہیا کر لئے اور ہوتے ہوتے آخر عزیز خوش و خرم ہو کر مجھ سے بے تکلف ہو گیا۔جسے دیکھ کر چچا صاحب کے دل میں کوئی اور خیال آنے لگا۔جس کے مدنظر انہوں نے عزیز کو لے جانے کی خواہش کی اور باوجود میرے اصرار کے انہوں نے عزیز کو میرے پاس زیادہ دیر ٹھہرنے کی اجازت نہ دی اور اسے آخر لے کر چلے گئے۔ایک اور کوشش ” میرے والدین اور رشتہ داروں کی ایسی کوششوں کے سلسلہ میں۔۔۔دوسرا حملہ جو میرے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے اور متاع ( دین ) کو چھین لینے کی غرض سے کیا گیا۔وہ میرے ایک محترم بزرگ چوہدری نتھو رام صاحب زمیندار جا پووال متصل گورداسپور کے ذریعہ تھا جو اپنی میٹھی زبان، شیریں کلامی، نرم طبیعت اور پُر حکمت خصلت کے باعث برادری میں معتبر اور معتمد اور مسلم تھے اور خیالات کی پختگی ، مذہبی معلومات کی وسعت کے لحاظ سے بہت ہوشیار و سمجھدار واقعہ ہوئے تھے۔اپنی ملازمت سے رخصت حاصل کر کے میرے پاس قادیان پہنچے اور پوری عظمندی، دانائی اور حسن تدبیر سے میری طبیعت کا مطالعہ کر کے مجھ سے دو دن متواتر نہایت محبت و پیار کے رنگ میں ذکر اذکار میں مصروف رہے۔میرے دلی حالات کا اندازہ اور قلبی کیفیات کا جائزہ لیا اور اس کے نتیجہ میں ان کا سارا