مردانِ خدا

by Other Authors

Page 55 of 97

مردانِ خدا — Page 55

مردان خدا حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی زور اور ساری توجہ اول اول تو اس بات پر مبذول رہی کہ (دینی) احکام اور خداوندی فرمان یاد کرا کر مجھے والدین کے حقوق ، عزیزوں اور رشتہ داروں سے سلوک وغیرہ اخلاق کی پابندی کرنے کی تاکید اور میرے جذبات کو اُبھار ابھار کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس دوران میں ان کا مطالبہ مجھ سے صرف یہی تھا کہ جو بات تمہیں پسند آ گئی ہے اور جس چیز کو تم صداقت یقین کرتے ہوئے ہم سے جدا ہوئے ہو، بے شک اسی پر قائم رہو۔ہم اس میں ہرگز ہرگز روک ڈالنا پسند نہیں کرتے مگر خون آخرخون ہے۔سوتم خونی تعلقات قطع نہ کرو اور ماں باپ کی فرمانبرداری کر کے ان کو خوش کرو کیونکہ اس کے بغیر تو تمہارا ( دین ) بھی قبول نہیں اور ایسے مشفقانہ اور ناصحانہ رنگ میں میرے دل کو موہ لینے کی راہیں اختیار کرتے رہے کہ خدا کے خاص فضل کے بغیر ان کے اس پوشیدہ اور بار یک جال سے بچ نکلنا مشکل تھا۔آخر سارا زور مارنے اور سر پٹک چکنے کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ ان تلوں میں وہ تیل نہیں جس کی ان کو تلاش اور جستجو ہے تو انہوں نے رنگ بدلا اور رخ پلٹ کر وہ ناصحانہ اور مصلحت آمیز لباس اُتار پھینکا اور اپنے اصلی روپ میں مجھ پر ظاہر ہونے لگے۔نصیحت و خیر سگالی کا جامہ چاک ہو گیا اور پھر وہ اپنا اندرونہ چھپانے کے قابل نہ رہے۔نصیحت کی بجائے بحث مباحثہ کا رنگ اختیار کر لیا۔دلائل کے زور سے مجھ کو ملزم کرنے کی کوشش کی اور عیسائی اور آریہ معاندین کے بودے کند اور کمزور ہتھیاروں سے مجھ پر وار کرنے شروع کر دیئے۔عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی اور لیکھرام کے مباہلہ کو بار بار پیش کر کے مجھ پر غلبہ ورعب جمانے کی کوشش کی مگر چونکہ انہی دنوں ایسے اعتراضات کے دندان شکن جوابات کا ایک خزانہ اور معارف کا ایک دریا سیدنا حضرت اقدس کی پُر نور تصنیفات میں تازہ بتازہ میرے مطالعہ میں آ رہا تھا جس کی طفیل میں بجائے مغلوب ہونے کے غالب اور مفتوح ہونے کے فاتح اور ذلیل ہونے کے سر بلند ہی رہا۔جس سے متاثر ہو کر میرے بھائی کو اپنی کم علمی کا اعتراف اور مغلوبیت کا