مردانِ خدا — Page 53
مردان خدا ۵۳ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی جاؤں خدائے بلند و برتر پر کہ اس نے ایسے نازک مرحلہ پر غیب سے میری مددفرمائی اور دشمن کے نرغہ سے خارق عادت رنگ میں مجھے رہائی بخشی ورنہ ان کے ارادے ظاہر تھے۔یکہ تیار کھڑا تھا۔پکڑنے اور اٹھا کر یکہ میں باندھ دینے کیلئے کافی سے زیادہ انتظام تھا۔بازار پر دشمن کا قبضہ تھا اور حالات و اسباب کے لحاظ سے حقیقتا دشمن بالکل مکمل ساز و سامان سے آراستہ اور میں کمزور بالکل یک و تنہا بے یارو مدد گار تھا۔حتی کہ میری فریاد تک کو میرے ہمدردوں تک پہنچانے والا بھی کوئی نہ تھا۔نہ جانے مجھ میں اتنی قوت کہاں سے آگئی کہ دشمن کا مکر اور گرفت میرے مقابلہ میں کمزور و پیچ ہوگئی اور وہ کبھی ایسے مرعوب اور ست ہو گئے کہ میں علی رغم انف ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور وہ کچھ نہ کر سکے۔میں دوڑا اور خوب دوڑا۔وہ بھی میرے پیچھے بھاگے اور خوب بھاگے۔میرے کان آشنا ہیں کہ جب میں ڈپٹی شنکر داس صاحب کی بیٹھک کے برابر بھاگ کر نکلا اور میرے پیچھے تین چار بھاگنے والوں کی دبڑد بڑ کی آواز نے گلی میں ایک شور بپا کر دیا تو اس گھر کے مکینوں نے کھڑکیوں سے سر نکالے اور اس بھا گڑ کو دیکھ کر خوب ہی ہنسی کی اور مذاق اڑایا۔میری اللہ تعالیٰ نے مددفرمائی اور میں ان کے ہاتھ نہ آیا اور جب ( بیت) مبارک کی کوچہ بندی کے قریب پہنچا تو چچا صاحب بزرگوار نے میرا نام لے کر پکارا اور فرمایا کہ بات تو سن لو میں نے دوڑتے ہی دوڑتے جواب میں عرض کیا کہ چا ابا چند قدم اور آگے آجائیں۔آپ جو کچھ فرمائیں گے میں سننے کو حاضر ہوں“ کیونکہ اس جگہ سے آگے ہماری اپنی آبادی تھی۔مگر چچا صاحب محترم نے اس وقت آگے بڑھنا پسند نہ فرمایا اور وہیں سے بے نیل مرام بصد حسرت واپس لوٹ گئے“۔آسماں سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں کوئی ہو جائے اگر بندہ فرماں تیرا ظہر کی نمار کے بعد غالباً میرے چا صاحب محترم، میرے چھوٹے بھائی عزیز با بو امر ناتھ کو لے کر آئے۔عزیز کو وہ محض اس خیال سے ہمراہ لائے ہوئے تھے کہ اگر اور کوئی