مردانِ خدا

by Other Authors

Page 49 of 97

مردانِ خدا — Page 49

مردان خدا ۴۹ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی سامان زیادہ۔اس کے باندھتے بندھاتے ہی ایک دوروز لگ گئے۔مرکز واپسی کا موقع میسر آنا والدین کس خیال میں تھے مگر میرا خدا کسی اور ہی خیال میں تھا۔ان کی تدبیریں کچھ چاہتی تھیں مگر خدا کی تدبیر کچھ اور ہی کرنے والی تھی۔گھر کی کسی ضرورت کے ماتحت گھر میں کسی بڑی بوڑھی ہم قوم بلکہ اپنی کسی رشتہ دار کی ضرورت لاحق ہوئی۔گھر میں میرے عم زاد بھائی کے علاوہ میرے ایک دور نزدیک کے رشتہ سے چا بھی موجود تھے۔ان کو بھیج کر پھوپھی یا دادی صاحبہ ( رشتہ کی دادی نہ کہ حقیقی ) کو منگایا جا سکتا تھا۔مگر قربان جاؤں اپنے قا پر جو بیچ بیچ مستبب الاسباب اور مصرف القلوب بھی ہے۔نہ معلوم اس نے والدین کے دل میں کیا ڈالا کہ انہوں نے میرے عم زاد بڑے بھائی اور چچا صاحب کو چھوڑ کر پھوپھی یا دادی کو لانے کا قرعہ میرے نام نکلوا دیا۔بھائی بہت متعصب تھے انہوں نے روک بھی ڈالی۔اگر چہ اپنا نام تو پیش نہ کیا۔چا صاحب کو بھیجنے کا مشورہ دیا۔مگر در حقیقت ان کی اپنی خواہش تھی کہ وہ جائیں وطن بھی ادھر ہی تھا۔گھر والوں سے بچھڑے عرصہ گذرا تھا۔ایک پنتھ دو کام، ایک تیر سے دو شکار کرنے کا خیال تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے والدین کے دل کو نہ پھرنے دیا اور انہوں نے میرے ہی جانے کا فیصلہ کر کے مجھے روانگی کا حکم دے دیا۔ضروری ہدایات اور مناسب سامان دے کر رخصت کیا۔میں نے سانگلہ ہل ریلوے اسٹیشن سے سوار ہونا تھا اور چونکہ والدین کے اس فیصلہ کے ساتھ ہی میرے دل نے بھی کچھ فیصلہ کر لیا تھا۔اپنے ساتھی کو جو گھوڑی لے کر مجھے اسٹیشن تک پہنچانے گیا تھا۔اسٹیشن سے ادھر ہی رخصت کر دیا تا کہ اس کو یہ علم نہ ہو سکے کہ میں نے ٹکٹ کہاں کا لیا ہے۔گاڑی آنے والی تھی۔ٹکٹ بٹ رہے تھے۔میں بھی بڑھا اور سیالکوٹ کا ٹکٹ لے کر۔۔۔سوار ہو گیا۔خدا کے فضل سے سیالکوٹ پہنچا۔( بیت الذکر ) میں گیا حضرت حامد شاہ صاحب اور