مردانِ خدا — Page 50
مردان خدا حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی اپنے واقف کاروں دوستوں سے مل کر رات گزاری اور پھر اللہ کے بھروسے پر قادیان دار الامان کا قصد کیا۔اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر اور خارق عادت رنگ میں غیب سے میری حفاظت و امداد کے سامان کئے اور یوں پھر کم و بیش 9 ماہ بعد مجھے دارالامان میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدوم میمنت لزوم میں لا ڈالا۔این سعادت بزور بازو نیست نہ بخشد خدائے بخشنده جولائی ۱۸۹۶ء کا آخر یا اگست ۱۸۹۶ء کا ابتدائی حصہ ہوگا۔جب خدا تعالیٰ نے دوبارہ قدرت نمائی سے مجھے زندہ کیا اور محض اپنے فضل سے دارالامان پہنچایا۔میں اسی زمانہ سے اس واقعہ کو اپنی نشاءۃ ثانیہ یقین کرتا ہوں“۔میرے واپس لے جانے کے مزید حر بے ادھر چند روز کے انتظار کے بعد جب میری واپسی میں تاخیر ہوگئی تو گھر میں گھبراہٹ شروع ہو گئی اور والدین کو پرانے خدشے تازے ہو کر بے قرار کرنے لگے انہوں نے بذریعہ خطوط ظفر وال سے میرے متعلق دریافت کیا مگر جب وہاں سے جواب نفی میں ملا تو وہ بھانپ گئے کہ ان کا لال پھر ان کے ہاتھ سے نکل کر قادیان ہی کی سلک میں پرو دیا گیا۔ادھر قادیان کے بعض وہ لوگ جن کو ( دین حق اور احمد یوں ) سے خدا واسطہ کی عداوت تھی اور وہ ہمیشہ اس تاک میں رہا کرتے تھے کہ کوئی موقع ہاتھ لگے تو ایسا وار کریں جو خالی نہ جائے۔اور ایسی کاری ضرب لگائیں جس سے یہ سلسلہ نابود اور پاش پاش ہو جائے اور ایسے ہی لوگوں نے پہلی مرتبہ میرے والد صاحب کی امداد و حوصلہ افزائی کی تھی اور گویا انہی کا یہ کارنامہ تھا کہ وہ مجھے قادیان سے واپس بھجوانے میں کامیاب ہو گئے۔اب یوں مجھے واپس آئے دیکھ کر ان پر کیسے گذرتی ہوگی اور ان کے سینوں پر کیونکر سانپ لوٹتے ہونگے جس کے نتیجہ میں وہ خاموش نہ رہ سکے اور فوراً والد صاحب کو