مردانِ خدا

by Other Authors

Page 48 of 97

مردانِ خدا — Page 48

مردان خدا ۴۸ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی خاطر مدارات بلکہ عزت و احترام کا سلسلہ جاری ہو گیا اور عجب نہ تھا کہ شیطان اسی راہ سے کامیابی کا منہ دیکھ پاتا اور ہوتے ہوتے اصل مقصد و مدعا میری نظروں سے اوجھل ہو جاتا کیونکہ اس طرح مجھ پر دنیا داری کا ایک رنگ چڑھنے لگا تھا۔تعریف و توصیف کی وجہ سے میرے خیالات کسی اور طرف کو بہنے لگے اور اگر چہ میں نے زیادہ دلچسپی وانہماک اس کام میں ابتداء محض فرائض دینی کی ادائیگی میں آزادی وسہولت کے باعث دیا تھا مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ شیطان ایسے باریک در بار یک رنگ اور نہاں درنہاں راہوں سے آ رہا تھا کہ اگر چندے اور یہی حالات رہتے اور اللہ کریم غیب سے ہمیشہ کی طرح میری دستگیری و راہ نمائی کے سامان نہ فرماتے تو میں اس زہر آلود انگیں کو شیریں و شفا بخش ہی یقین کرتے ہوئے نوش کر جاتا اور ہمیشہ کیلئے روحانی موت کی نیند سو جاتا۔قریب تھا کہ والد صاحب کی مساعی مجھے کوئی علیحدہ حلقہ دلا کر مستقل ملا زمت دلانے میں کامیاب ہو جاتیں کیونکہ میرے کام میں لگ جانے سے وہ بالکل فارغ اور مطمئن ہو کر افسران متعلقہ تک پہنچ کر کوشش کرنے کیلئے فرصت پاتے تھے اور میرے کام کی عمدگی اور شہرت کا چرچا دوسرے ذرائع سے بھی حکام بالا کے کانوں تک پہنچ چکا تھا۔اس لئے ان کی طرف سے والد صاحب کو ایسی امیدیں بھی دلائی جا چکی تھیں۔مگر قربان جاؤں اپنے مولا کریم کے جس نے بچپنے ہی سے خود اپنی رحمت کے ہاتھوں میرے دل میں تخم ایمان بو یا۔خود ہی اسے پودا بنا کر ہمیشہ اس کی آبیاری فرمائی اور ہر بادصر صر کے تھیٹروں سے اپنا دست رحمت دے کر محفوظ رکھا اور آج بھی اس نے اس سیل ضلالت سے اپنی قدرت نمائی کے ذریعہ بچا کرنجات دی اور یوں ہوا کہ اچانک حکام بالا دست کی طرف سے والد صاحب کے تبادلہ کے احکام پہنچے اور دوسرے حلقہ میں پہنچ کر چارج لینے کیلئے اتنا تھوڑا وقت دیا گیا کہ کسی قسم کی کوشش کا موقعہ ہی نہ تھا۔حکم حاکم مرگ مفاجات‘ والی بات۔سرکاری ملازمت چوں و چرا کی گنجائش نہ تھی۔ناچار بادل ناخواستہ سفر کی تیاری کرنی پڑی۔منزل دور تھی اور