مردانِ خدا — Page 37
مردان خدا ۳۷ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی گویا اُس وقت آپ کی والدہ کی وہی کیفیت تھی جو کہ حضرت باوانانک کے والد صاحب کی حضور نے ان اشعار میں بیان فرمائی ہے۔میں حیراں ہوں تیرا یہ کیا حال ہے وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے؟ ہے نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے؟ مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے میرے لال؟ مگر والد صاحب توجہ نہ فرماتے اور بات کو ٹال دیا کرتے۔ہوتے ہوتے ایک ہفتہ گزر گیا۔آٹھ ، نو، دس، گیارہ، بارہ بلکہ تیرہ دن گزر گئے۔مگر میری مشکل کشائی کا کوئی سامان نظر نہ آیا۔اور مجھ پر انتہائی اضطراب بے قراری اور بے چینی مسلط ہو گئی اور ایسا ہوا کہ مایوسی کا غلبہ ہو گیا اور میں سرشام ہی چھت پر جا کر لیٹ گیا۔مجھے لیٹے ابھی چند ہی منٹ ہوئے ہوں گے کہ میرے کان میں والد صاحب کی آواز پڑی جن کے ساتھ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کوئی اجنبی گھوڑا گھوڑی ہے۔والد صاحب نے گھوڑی کو باہر چھوڑا اور خود اندر تشریف لائے۔والدہ صاحبہ نے اس گھوڑی کے متعلق پوچھا کس کی ہے اور کیوں آئی ہے؟ میں نے بھی کان لگا کر والدین کی باتوں کو سننے کی کوشش کی اور میری خوشی کی کوئی انتہا باقی نہ رہی جب میرے کان میں یہ آواز پڑی کہ گھوڑی لایا ہوں۔تمہارے پلو ٹھے کو نوکری کے واسطے بھیجنے کی غرض سے اور بر والا بھی بلوایا ہے اس کے واسطے روٹی ووٹی پکاؤ تا رات ہی کو بھیج دیں کیونکہ گرمی کا موسم ہے دن بھر سفر نہ ہو سکے گا۔راستہ میں پانی وغیرہ بھی نہیں ملتا۔وغیرہ۔میں یہ خبر سن کر اچھل پڑا۔نیچے اتر آیا اور تجاہل عارفانہ کے طریق پر والد صاحب