مردانِ خدا

by Other Authors

Page 36 of 97

مردانِ خدا — Page 36

مردان خدا ۳۶ حضرت بھائی جی عبد الرحمن صاحب قادیانی خط لکھا بھی گیا اور چلا بھی گیا۔مگر اس میں مندرجہ وعدہ کے ایفا کا کوئی سامان محض ایک وہم اور جنون تھا۔نہ صرف یہی تھا کہ سامان کوئی نہ تھا بلکہ اس کی مخالفت خود میرے والدین فرما رہے تھے اور اپنی ساری توجہ اور پورا زور اس بات پر خرچ کر رہے تھے کہ کسی طرح میرے دل سے باہر جانے کے خیال کو بالکل ہی نکال دیں۔چنانچہ کبھی کبھی میں نے بیکاری کا شکوہ کر کے عرض کی تو مجھے کبھی محبت اور نرمی سے اور کبھی ناراضگی اور خفگی سے یہی جواب ملا کہ یہ خیال دل سے نکال دو۔ہمیں نوکری کی ضرورت نہیں گھر میں پر ماتما نے بہت کچھ دے رکھا ہے اس کو سنبھالو اور بھائی بہنوں کے ساتھ مل کر خوشی سے کھاؤ پیو اور اگر کام کا بہت ہی شوق ہے تو ہمارے کام میں ہماری مدد کر و۔وغیرہ۔دن ایک ایک کر کے گزرنا شروع ہوئے اور جوں جوں وہ گزرتے جاتے میری بے قراری اور اضطراب بڑھتا جاتا۔آنے والی خیالی مصیبت کے خیال کا دل پر گہرا اثر تھا جس کی وجہ سے خوشی آہستہ آہستہ دل سے نکلتی جارہی تھی اور اس کی بجائے غم والم اور اداسی و افسردگی جگہ لے رہے تھے کھانے سے رغبت رہی نہ پینے کا شوق باقی رہا۔گھر میں دودھ دہی کی افراط تھی جس کا میں بچپن سے شوقین تھا۔مگر اب با وجود والدہ صاحبہ کے تقاضا کے میں نہ پیا۔مرغ میں نے بکثرت پال رکھے تھے ان کی داشت سنبھال کا بھی قصہ چک گیا اور کتے بلی کا وہ شکار ہونے لگے۔رات چین نہ آتا اور کروٹ لیتے یا ستارے گنتے کٹنے لگی اور ان باتوں کا اثر میری جسمانی صحت پر پڑنے لگا اور میرے دلی درد کی ترجمانی میرا چہرہ اور باقی اعضاء کرنے لگ گئے۔والدہ محترمہ گھر میں ہوتیں میری حرکات اور بے قراری و بے تابی کا معائنہ فرمایا کر تیں اور چونکہ وہ عورت ذات تھیں ان کا دل فطر نا نرم تھا میرے ان حالات کا ان کے دل پر اثر ہوتا اور کبھی کبھی والد صاحب کو میرے متعلق فرمایا کرتیں۔اسے کیا ہو گیا ہے یہ تو دن بدن کمزور ہوتا جاتا ہے کھاتا ہے نہ پیتا ہے بلکہ دن رات رورو کر کچھ پڑھتارہتا ہے اسے جہاں کہتا ہے کیوں نہ بھیج دیں“۔