مردانِ خدا — Page 38
مردان خدا ۳۸ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی سے گھوڑی کے متعلق پوچھنے لگا۔جس کے جواب میں والد صاحب نے مجھے بھی وہی کچھ فرمایا جو والدہ سے کہا تھا۔قربان جاؤں میں اپنے قادر مطلق خدا کے میرے وہم میں بھی کوئی بات نہیں آسکتی اور ڈھونڈ کر بھی میں وہ اسباب نہیں معلوم کر سکتا جن کے نتیجہ میں میرے والد صاحب کے دل پر ایسا تصرف ہوا کہ کل تک جس بات سے وہ با وجود درخواستوں کے انکار اور انکار پر اصرار کرتے تھے آج کس وجہ سے خود بخود اس کیلئے سامان کر لائے۔کس چیز نے ان کے دل کو پھیر اوہ صرف اور صرف خدائے واحد و یگانہ کی قدرت کا ایک کرشمہ تھا ورنہ اور کوئی سامان اس کے لئے ہرگز ہرگز موجود نہ تھے۔والدہ محترمہ نے جلد جلد کچھ میٹھی روٹیاں ، حلوہ اور انڈے تیار کئے اور میں جو پہلے ہی کمر بستہ تھا جلدی جلدی کپڑے سمیٹ بستر باندھ تیار ہو گیا۔بر والے کے آنے میں کچھ دیر ہوئی اتنے میں میں اپنے بھائی بہنوں کو ایک ایک کر کے گلے لگا کر پیار کرنے لگا اور ایسا ہوا کہ میرا دل ان خیالات کی وجہ سے جو میرے دل میں موجزن تھے بھر گیا۔جدائی بلکہ دائمی جدائی کے خیال سے میں ایسا متاثر ہوا کہ ضبط نہ کر سکا اور باوجود اس خطرہ کے کہ اس وقت کی بے صبری نہ معلوم کیا بنا دے گی پھوٹ پھوٹ کر رویا اور گھر میں ایسا کہرام مچا کہ گاؤں والے گھبرا کر خیریت پوچھنے کو دوڑے۔بروالے نے آواز دی اور میں دل کو تھام کر روتے ہوئے بھائی بہنوں اور غمگین ماں باپ کو خدا کے لئے گویا ہمیشہ کے واسطے چھوڑ کر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔تھوڑی دور تک جا کر والد صاحب اور چھوٹے بھائی نے الوداع کہی وہ واپس لوٹے اور میں جلد جلد اپنا سفر کاٹنے لگا۔چلتے چلاتے رات کے بارہ بج چکے ہونگے اور یہ رات پانچ اور چھ جون ۱۸۹۵ ء کی درمیانی رات تھی۔جب میں گھر سے خدا کی رضا اور اس کے دین کی تلاش میں نکلا اور سات جون کا دن وہ آخری دن تھا جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے میری قلم سے میرے ایک حقیقی دوست کے نام لکھوایا ہوا تھا۔۔۔۔چک نمبر ۶۲ بھاگو وال سے ڈچکوٹ اور وہاں سے گوگیرہ پہنچنا تھا۔میلوں کا تو مجھے حساب نہیں مسافت دور کی