مردانِ خدا — Page 35
مردان خدا ۳۵ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی چاہیے۔کیونکہ ان کے ظہور کی بڑی علامت آج پوری ہو چکی ہے اُس وقت آپ مڈل میں تعلیم پا رہے تھے۔اس پر آپ کے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوئی۔آپ نے دعائیں کرنی شروع کر دیں۔آپ کی خوش قسمتی کہ آپ کے سکول واقع چونیاں ضلع لاہور (حال قصور ) میں حضرت بیر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے ایک رشتہ دار سید منیر حیدر صاحب جو کہ ڈاکٹر تھے چونیاں تبادلہ ہو کر آگئے اور آپ کے ایک بیٹے سید بشیر حید ر آپ کے کلاس فیلو بنے اور اس طرح اس گھرانے سے آپ کے تعلقات شروع ہوئے اور آپ نے ان کے ساتھ عبادات بجا لانا شروع کر دیں۔اس کی اطلاع جب آپ کے چھوٹے بھائی کے ذریعہ آپ کے گھر والوں کو ہوئی تو انہوں نے چونیاں سے آپ کو ایک عزیز کے پاس پکے ماڑی ضلع لائل پور (فیصل آباد ) بھجوا دیا آپ کے چونیاں کے مخلص دوست آپ کو دعوت الی اللہ پرمشتمل خطوط لکھتے رہے مگر والد صاحب کو یہ بھی ناگوار ہوا اور انہوں نے آپ کو آپ کے چچا چوہدری جیون مل کے پاس بھیج دیا کہ جہاں قریب قریب آبادی کا کوئی نام ونشان نہ تھا وہاں آپ جنگل میں نکل جاتے اور خدا کے حضور خوب دعائیں کرتے۔پھر آپ کے والد صاحب کا تبادلہ پکے ماڑی سے ۶۲ چک ہو گیا اور آپ کو واپس بلوالیا گیا۔والد صاحب نے سختی سے حکم دیا کہ دوستوں کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ بند کر دو۔آپ پر یہ بڑا بھاری صدمہ تھا۔وہاں پر آپ کو سید بشیر حیدر صاحب کا ایک خط ملا جو کہ آخری پیغام دعوت الی اللہ کا ثابت ہوا۔اپنے حالات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔میں نے غیر مشروط الفاظ میں مکرم سید بشیر حیدر صاحب کی خدمت میں ان کے خط کے جواب میں لکھ دیا کہ:۔میں پندرہ روز کے اندر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا اس میں تخلف ہرگز نہ ہوگا اور اگر میں اس عرصہ میں نہ پہنچوں تو آپ یقین کر لینا کہ ہر لیش چندر دنیا کے پردے پر زندہ موجود نہیں“۔بس والسلام