مردانِ خدا

by Other Authors

Page 13 of 97

مردانِ خدا — Page 13

مردان خدا حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بہت مقبول ہیں۔خاص طور پر جھوک مہدی والی تو دیہاتی جماعتوں میں زبان زدعام ہے۔آپ کو جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق نصیب ہوئی تو سنت اللہ کے مطابق آپ پر بہت ابتلا آئے مگر ہر موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی دستگیری فرمائی اور آپ اخلاص میں ترقی پر ترقی کرتے چلے گئے۔یہاں چند واقعات جو کہ آپ نے خود ہی تحریر فرمائے ہیں احباب کے ازدیاد ایمان کی خاطر پیش کئے جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔فتویٰ تکفیر اور مقاطعہ "وطن مالوف موضع را جیکی پہنچتے ہی خداوند کریم کی نوازش ازلی نے میرے اندر ( دعوت احمدیت ) کا ایسا بے پناہ جوش بھر دیا کہ میں شب و روز دیوانہ وار اپنوں اور بیگانوں کی محفل میں جاتا اور سلام و تسلیم کے بعد امام الزمان علیہ السلام کے آنے کی مبارکباد عرض کرتے ہوئے ( دعوت احمدیت ) شروع کر دیتا۔جب گردو نواح کے دیہات میں میری ( دعوت الی اللہ ) اور احمدی ہونے کا چرچا ہوا تو اکثر لوگ جو ہمارے خاندان کو پشتہا پشت سے ولیوں کا خاندان سمجھتے تھے مجھے اپنے خاندان کے لئے باعث ننگ خیال کرنے لگے اور میرے والد صاحب محترم اور میرے چچاؤں کی خدمت میں حاضر ہو کر میرے متعلق طعن و تشنیع شروع کر دی۔میرے خاندان کے بزرگوں نے جب ان لوگوں کی باتوں کو سنا اور میرے عقائد کو اپنی آبائی وجاہت اور دنیوی عزت کے منافی پایا تو مجھے خلوت و جلوت میں کوسنا شروع کر دیا آخر ہمارے ان بزرگوں اور دوسرے لوگوں کا یہ جذبہ تنافر یہاں تک پہنچا کہ ایک روز لوگ مولوی شیخ احمد ساکن دھر یکاں تحصیل پھالیہ اور بعض دیگر علماء کو ہمارے گاؤں میں لے آئے۔یہاں پہنچتے ہی ان علماء نے مجھے سینکڑوں آدمیوں کے مجمع میں بلایا اور احمدیت سے تو بہ کرنے کیلئے کہا میری عمر اگر چہ اس وقت کوئی اٹھارہ انیس سال کے قریب ہوگی مگر اس روحانی جرات کی وجہ سے جو