مردانِ خدا

by Other Authors

Page 14 of 97

مردانِ خدا — Page 14

مردان خدا ۱۴ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی محبوب ایزدی نے مجھے مرحمت فرمائی تھی میں نے ان مولویوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس بھرے مجمع میں جہاں ہمارے علاقہ کے زمیندار اور نمبر دار اور ذیلدار وغیرہ جمع تھے ان لوگوں کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے دلائل سنانے کی کوشش کی لیکن مولوی شیخ احمد اور ان کے ہمراہیوں نے میرے دلائل کو سننے کے بغیر ہی مجھے کافر ٹھہرا دیا اور یہ کہتے ہوئے کہ اس لڑکے نے ایک ایسے خاندان کو بٹہ لگایا ہے جس میں پشتہا پشت سے ولی پیدا ہوتے رہے ہیں اور جس کی بعض خواتین بھی صاحب کرامات و کشوف گذری ہیں۔تمام لوگوں کا میرے ساتھ مقاطعہ کرا دیا اس موقع پر میرے بڑے چچا حافظ برخوردار صاحب کے لڑکے حافظ غلام حسین جو بڑے دبدبہ کے آدمی تھے کھڑے ہوئے اور میری حمایت کرتے ہوئے ان مولویوں اور ذیلداروں کو خوب ڈانٹا لوگوں نے جب اُن کی خاندانی عصبیت کو دیکھا تو خیال کیا کہ اب یہاں ضرور کوئی فساد ہو جائے گا اس لئے منتشر ہو کر ہمارے گاؤں سے چلے گئے۔اس فتوی تکفیر کے بعد مجھے لا اله الا اللہ کی خالص توحید کا وہ سبق جو ہزار ہا مجاہدات اور ریاضتوں سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا ان علماء کی آشوب کاری اور رشتہ داروں کی بے اعتنائی نے پڑھا دیا اور وہ خدا جو صدیوں سے عنقا اور ہما کی طرح لوگوں کے وہم و گمان میں تھا سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کے توسط سے اپنی یقینی تجلیات کے ساتھ مجھے ذرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقیر پر ظا ہر ہوا۔چنانچہ اس ابتدائی زمانہ میں جب کہ یہ علماء سوء گاؤں گاؤں میری کم علمی اور کفر کا چرچا کر رہے تھے مجھے میرے خدا نے الہام کے ذریعہ سے یہ بشارت دی۔”مولوی غلام رسول جوان صالح کراماتی چنانچہ اس الہام الہی کے بعد جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑے بڑے مولویوں کے ساتھ مباحثات کرنے میں نمایاں فتح دی ہے وہاں میرے ذریعہ سیدنا حضرت امام الزمان علیہ السلام کی برکت سے انداری اور تبشیری کرامتوں کا اظہار بھی فرمایا ہے جن کا ایک زمانہ گواہ ہے۔( حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی: حیات قدی: حصہ اول: صفحہ ۲۱۰ تا۲۳: ۲۰ جنوری ۱۹۵۱ء: حیدر آباد دکن)