مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 32
۳۲ مقام خاتم الن " وَمَا ذَكَرَهُ الْغَزَالِيُّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَهَذَا الْمَعْنَى فِي كِتَابِهِ الَّذِى سَمَّاهُ بِالْإِقْتِصَادِ الْحَادٌ عِنْدِي وَتَطَرَقَ خَبِيْتُ إِلَى تَشْوِيْشِ عَقِيْدَةِ الْمُسْلِمِيْنَ فِي خَتْمٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّبُوَّةِ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ مِنْهُ۔66 (تفسیر قرطبی جزوم اصفحہ ۱۹۶ ۱۹۷) یعنی آیت خاتم النبیین کے متعلق جو معنی غزالی نے اپنی کتاب الاقتصاد میں بیان کئے ہیں وہ میرے نزدیک الحاد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بارہ میں مسلمانوں کے عقیدہ کومشوش کرنے کے لئے ایک خبیث راہ نکال رہے ہیں۔اس سے بچ کر رہنا چاہئیے۔اب مولوی خالد محمود صاحب بتائیں کہ امام غزالی کی ختم نبوت کی تاویل کے متعلق زیر بحث عبارت کو آپ صحیح سمجھے ہیں یا امام قرطبی جو اس عبارت کی وجہ سے امام غزالی کو الحاد کا الزام دے رہے ہیں۔اور اس کا مفہوم مولوی خالد محمود صاحب کے بیان کردہ مفہوم کے خلاف جانتے ہیں۔مولوی خالد محمود صاحب سے دو ضروری سوال (۱) مولوی خالد محمود صاحب ! جب آپ اور دیگر علمائے ملت حضرت عیسی علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی حیثیت میں آنا تسلیم کرتے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بمعنی مطلق آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔کیونکہ آپ کے عقیدے کے رُو سے تو آخری نبی ایک لحاظ سے حضرت