مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 31 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 31

۳۱ مقام خاتم است ہے کہ تاویل کرنے والے کو کا فرقرار نہیں دینا چاہئیے۔کیونکہ وہ صاف لکھ چکے ہیں:۔لَمْ يَثْبُتْ لَنَا أَنَّ الْخَطَاً فِي التَّاوِيْلِ مُوْجِبٌ لِلتَّكْفِيرِ ( الاقتصاد صفحه ۱۱۲) کہ یہ بات ہم پر ثابت نہیں ہوئی کہ تاویل میں غلطی کرنا تکفیر کا موجب ہے۔اور اجتماع کے متعلق بھی وہ صاف لکھ چکے ہیں:۔لَانَّ الشُّبْهَةَ كَثِيرَةٌ فِي كَوْنِ الْإِجْمَاعِ حُجَّةً قَاطِعَةً۔( الاقتصاد صفحه ۱۱۳) یعنی اجماع کے قطعی مُحبت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔اسی لئے وہ نظام معتزلی کو جو سرے سے اجماع کے وجود ہی کا منکر ہے کا فرقرار نہیں دیتے۔مولوی خالد محمود صاحب تو امام غزالی کی زیر بحث عبارت کا مطلب ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ امام غزالی آیت خاتم النبيين اور حدیث لا نبی بعدی کی تاویل کرنے والے کو بلا توقف کا فر قرار دیتے ہیں۔اور ہم نے یہ بتایا ہے کہ مولوی خالد محمود صاحب اُن کی عبارت کے ترجمہ کو بگاڑ کر اُن کے مقصد کے صریح خلاف یہ غلط بات منسوب کر رہے ہیں کہ امام موصوف خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کی تاویل کرنے والے کی تکفیر کے حامی ہیں۔دیکھئے علامہ قرطبی نے بھی جو تکفیر میں متشدد ہیں امام غزالی کے کلام سے یہی سمجھا ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔اسی لئے وہ خاتم النبیین کی تاویل کرنے والے کو کا فرقرار نہ دینے پر ختم نبوت کے عقیدہ کو مشوش کرنے کی راہ نکالنے والا قرار دے رہے ہیں۔چنانچہ وہ امام غزالی کی اس تحریر کے متعلق لکھتے ہیں:۔