مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 33
۳۳ مقام خاتم النی عیسی علیہ السلام قرار پاتے ہیں۔پس جب آپ لوگ اُن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا مانتے ہیں تو اس لحاظ سے آپ لوگ کس طرح آیت خاتم النبیین کے معنی آخری نبی میں تاویل وتخصیص کے قائل نہیں۔جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ لوگ ایک خاص قسم کا آخری نبی قرار دے رہے ہیں نہ علی الاطلاق ہر لحاظ سے آخری نبی؟ آپ کے اس عقیدہ سے تو ظاہر ہے کہ آپ لوگ خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔بلکہ پیدا ہونے میں آخری نبی قرار دے کر تاویل و تخصیص کے قائل ہیں۔(۲) پھر آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی حیثیت میں آنا مان کر حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِى اور حديث إِنِّي أَخِرُ الْأَنْبِيَاءِ کی تاویل بھی کر رہے ہیں اور تخصیص بھی کیونکہ آپ ان حدیثوں کو مخصوص بالبعض قرار دے رہے ہیں نہ کہ اپنے مفہوم میں عام۔حالانکہ ان حدیثوں میں بظاہر عموم ہے۔اور ان میں بظاہر مطلق نبی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے کی نفی ہے۔جب ان حدیثوں کی موجودگی میں آپ حضرت عیسی علیہ السلام کے نبی کی حیثیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے کا بدیں وجہ جواز نکال رہے ہیں کہ وہ آمد خانی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ماتحت امتی نبی کی حیثیت میں ہوں گے تو پھر آپ لوگوں کو اپنے اس مخصوص عقیدہ کی موجودگی میں یہ کہنے کا حق کیسے حاصل ہے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔اور آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی میں کوئی تاویل اور تخصیص نہیں بلکہ یہ اپنے مفہوم میں عام ہیں؟