مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 231
مقام خاتم انا ساتواں قول سا تو اس قول یہ پیش کیا ہے:۔" خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ (أَى وُجُوْدُهُمْ) فَلَا يَحْدُتُ بَعْدِي نَبِيٌّ وَلَا يُشْكَلُ بِنُزُولِ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ تَرْوِيْجِ دِيْنِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى آتَمّ النِّظَامِ وَكَفَى بِهِ شَهِيدًا وَ شَرْفًا۔“ ( مرقاة جلد ۵ صفحه ۳۶۱ بحوالہ عقیدۃ الامۃ صفحہ ۷۸) خاتم النبیین کے یہ معنی کرنے کے بعد کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا نزول عیسی کے اشکال کا اس جگہ یہ جواب دیا ہے کہ وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پورے نظام کے ساتھ رواج دیں گے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمد یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی ترویج کے لئے ہی مامور ہیں۔آپ کا دعویٰ مستقل تشریعی نبی کا ہر گز نہیں بلکہ صرف ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہونے کا دعویٰ ہے۔آٹھواں قول آٹھواں قول امام علی القاری علیہ الرحمہ کی بجائے امام سیوطی علیہ الرحمہ کا درج کر دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر وحی منقطع ہو گئی ہے۔مگر اس جگہ وحی سے مراد تشریعی وحی ہے ورنہ خود امام علی القاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:۔حديث لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِيْ بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ ( الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ صفحہ ۲۲۶)