مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 230
۲۳۰ اسی کے ذیل میں اُنہوں نے یہ قول بھی درج کیا ہے:۔مقام خاتم انا ” إِضَافَةُ النُّبُوَّةِ لِاَنَّهُ خَتَمَ بِهِ بَيْتَ النُّبُوَّةِ حَتَّى لَا يَدْخُلَ بَعْدَهُ اَحَدٌ۔کہ اس حدیث میں قصر نبوت والی حدیث کے مطابق بیت النبوۃ سے مراد کامل شریعت ہے۔اور یہ صیح ہے کہ اب قرآنی شریعت کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔جو شریعت محمدیہ میں مداخلت کرے۔چھٹاقول چھٹا قول یہ پیش کیا ہے:۔" إِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَ يَحْكُمُ بِشَرِيْعَتِهِ وَ يُصَلَّى إِلَى قِبْلَتِهِ وَيَكُوْنُ مِنْ جُمْلَةِ أُمَّتِهِ۔( شرح شفاء جلد ۴ صفحه ۵۰۹مصر ) 66 я یہ عبارت ناقص ہے کیونکہ ”خکُم“ کا فاعل مذکور نہیں۔بہر حال اس عبارت کے آخری حصہ کا تعلق مسیح موعود سے ہے۔اور امام علی القاری علیہ الرحمۃ یہ بتارہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔اور مسیح موعود نَبِی الله شریعت کے مطابق حکم دے گا اور آپ کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے گا۔اور آپ کا امتی ہوگا۔پس یہ قول بھی ہمارے عقیدہ کے مخالف نہیں۔ہم بھی مسیح موعود کو انتی نبی ہی مانتے ہیں نہ کہ مستقل نبی۔فتد تبر !