مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 198 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 198

(19A) مقام خاتم ہاں امام محمد طاہر نے اپنے عقیدہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس توجیہہ سے : تو جیہہ بھی کی ہے:۔" هَذَا نَاظِرٌ إِلَى نُزُوْلِ عِيْسَى“ کہ یہ قول کہ لَا نَبِيَّ بَعْدَہ کہا نہ جائے نزول عیسی کے پیش نظر ہے۔مگر یہ صرف امام محمد طاہر علیہ الرحمۃ کا اپنا خیال ہے۔اسی لئے میں نے اپنی کتاب علمی تبصرہ میں اختصار کے پیش نظر امام محمد طاہر کی اس تو جیبہ کو پیش نہیں کیا تھا بلکہ اس دوسری تو جیہ کو پیش کیا تھا جس سے ہمارا مقصد وضاحت سے ظاہر ہو جاتا تھا کہ امتی نبی کا آنا آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔چونکہ حضرت اُم المومنین وفات مسیح کی قائل ہونے کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتا نزول کی قائل نہ تھیں لہذاوہ حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتنا نزول کے پیش نظر یہ قول نہیں کہ سکتی تھیں۔بلکہ انہوں نے یہ قول اس مسیح موعود کے پیش نظر کہا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایک پہلو سے امتی اور ایک پہلو سے نبی ہونے والا تھا۔اس بات کا ثبوت کہ حضرت اُم المومنین وفات مسیح کی قائل تھیں یہ ہے کہ حاکم نے مستدرک میں آپ کی سند سے یہ حدیث بیان کی ہے:۔66 إِنَّ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِيْنَ وَمِائَةِ سَنَةٍ۔“ کر عیسی بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے۔پس علمی تبصرہ میں اختصار کے پیش نظر میرا" هذَا نَاظِرٌ إِلى نُزُولِ عیسی“ کا قول جو امام محمد طاہر کے ذاتی خیال سے متعلق ہے پیش نہ کرنا قابلِ اعتراض امر نہیں۔ماسوا اس کے ہم بھی تو اس حدیث کو اس وقت تک نزول عیسی سے ہی متعلق قرار