مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 197 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 197

(192) مقام خاتم السنة نتين حضرت عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ کے ان ظاہری معنوں سے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں خاتم النبیین کا مفہوم پورے طور پر ادا نہیں ہوتا بلکہ اس قول کے ظاہری معنوں سے امت محمدیہ غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتی ہے۔اس لئے آپ نے اُمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنے کی تو ہدایت فرمائی اور لَا نَبِيَّ بَعْدَہ کہنے سے منع فرما دیا۔حضرت اُم المومنين حديث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی منکر نہ تھیں بلکہ وہ اس کے معنی یہ سمجھتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا یا کوئی مستقل نبی نہیں آسکتا جو آپ کے زمانہ نبوت کو ختم کر دے۔دیگر علماء امت نے بھی لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے یہی معنی کئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مُراد ان الفاظ سے یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آ سکتا۔افسوس ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقہ نے اُمّت کو لَا نَبِيَّ بَعْدَہ کہنے سے روک کر جس غلط فہمی سے بچانا چاہا تھا مولوی خالد محمود صاحب اسی دھو کے میں امت کو مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔خود امام محمد طاہر نے یہ قول نقل کر کے ایک تو جیہہ اس قول کی یہ بھی بیان کی ہے کہ " هَذَا لَا يُنَافِي حَدِيْتَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي لِأَنَّهُ أَرَادَ لَا نَبِيَّ يَنْسَخُ شَرْعَهُ۔“ (تکمله مجمع البحار صفحه ۸۵) یعنی اُم المومنین کا یہ قول حديث لا نَبِيَّ بَعْدِی کے خلاف نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے یہ مرا تھی کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہ ہو گا جو آپ کی شرع منسوخ کرے۔