مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 199
(199) مقام خاتم اتنی دیتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ وہ عیسی اسرائیلی ہو یا محمدی۔چونکہ اسرائیلی مسیح علیہ السلام حضرت اُم المومنین کے نزدیک وفات پاچکے ہیں اس لئے اُن کے زیر بحث قول میں وہ تو ہرگز حضرت اُم المومنین کے مد نظر نہیں ہو سکتے۔بالآخر عرض ہے کہ اگر اُم المومنین خاتم النبیین کے معنی علی الاطلاق خاتمیت زمانی ہی سمجھتیں تو لا نَبِيَّ بَعْدَہ کہنے سے بھی منع نہ فرماتیں۔مگر چونکہ وہ خاتم النبیین کے پورے اسلامی عقیدہ کی قائل تھیں اس لئے انہوں نے لَا نَبِيَّ بَعْـدَه کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اس سے خاتم النبیین کے اسلامی عقیدہ کے متعلق پوری تشریح نہیں ہوتی تھی۔بلکہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی تھی اور یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ خاتمیت زمانی علی الاطلاق پائی جاتی ہے۔حالانکہ یہ بات اُن کے نزدیک درست نہ تھی۔وہ حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی منکر نہ تھیں۔مگر لَا نَبی بَعْدِی کے حقیقی معنوں سے چونکہ عوام ناواقف تھے اس لئے ایسے لوگ خاتم النبیین کے ساتھ لا نَبِيَّ بَعْدَہ کہا جانے سے اس وہم میں مبتلا ہو سکتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔اور نہ ہی مسیح موعود کا بطور امتی نبی کے ظہور ہو سکتا ہے۔اس لئے اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے اُمت پر شفقت فرماتے ہوئے لَا نَبِيَّ بَعْـدَه کہنے سے روک کر امت کو غلط فہمی سے بچانے کی کوشش کی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ مولوی خالد محمود صاحب اُن کی راہ نمائی سے مستفیض نہیں ہوئے اور حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے امتی نبی کے دعوے کو آیت خاتم النبیین کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔اور خاتمیت مرتبی کا اسلامی عقیدہ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پھر خاتمیت زمانی کے ایسے معنی لینا چاہتے ہیں جو خاتمیت مرتبی کے ساتھ بوجہ تناقض جمع نہیں ہو سکتے۔