مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 166 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 166

(MY) مقام خاتم انا پھر خاتمیت مرتبی کا مفہوم یہ لکھا ہے:۔جیسا کہ خاتم بہ فتح تاء کا اثر اور فعل مختوم علیہ پر ہوتا ہے۔ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوگا۔“ ( تحذیر الناس صفحہ م ) پس زیر بحث حدیث میں خاتمیت زمانی یا تاخر زمانی علی الاطلاق مراد نہیں لیا جا سکتا۔بلکہ اس قسم کا تاخر مراد ہوسکتا ہے جو خاتمیت مرتبی کے معنی کے ساتھ جمع ہو سکے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بالذات انبیاء سے افضل ہونے پر دلالت میں روک نہ بنے کیونکہ اس حدیث میں خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ کے الفاظ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنے افضل ہونے کا موجب قرار دیا ہے جس طرح پانچ پہلی باتوں کو انبیاء سے اپنے افضل ہونے کا موجب قرار دیا ہے۔پس خاتمیت مرتبی ان پہلی باتوں سے پو را ربط اور مناسبت رکھتی ہے اور خاتمیت زمانی آخری شارع نبی کے معنوں میں ان معنی کو لازم ہے۔مولوی خالد محمود صاحب کو اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ جب پہلی پانچ باتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے علی الاطلاق افضل ہیں۔تو اس چھٹی بات میں بھی علی الاطلاق افضل ہوئے۔چنانچہ وہ اپنا یہ ٹبہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ پچھلی پانچ فضیلتیں جس طرح آپ کو شریعت جدیدہ والے نبیوں پر حاصل ہیں بطریق اولی شریعت سابقہ کے امتی نبیوں پر بھی حاصل ہیں۔اور نبی کریم ان فضائل میں افضل علی الاطلاق ہیں جن میں انبیاء کے تشریعی اور غیر تشریعی ہونے میں کوئی