مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 114 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 114

بھی ان معنوں سے میں نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام اس عبارت میں یہ بیان فرما رہے ہیں کہ آپ کا یہ دعویٰ کہ آپ نے اپنے رسول مقتداء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے علم غیب پایا ہے معنوی طور پر امتی نبی ہونے کا ہی دعویٰ ہے۔دعویٰ کی اس کیفیت اور اس کی بناء پر خدا کی طرف سے نبی اور رسول کا نام دیا جانے سے آپ نے کبھی انکار نہیں کیا۔چنانچہ اس رسالہ ایک غلطی کا ازالہ کے آغاز ہی میں براہین احمدیہ میں جسے شائع ہوئے 1991ء سے پہلے کافی عرصہ گزر چکا تھا، ایسے الہامات موجود ہونے کا ذکر کیا گیا ہے جن میں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسول کہا گیا تھا۔ہاں ۱۹۰۱ء سے پہلے زمانہ میں آپ اس نبی اور رسُول کی تاویل محدث کیا کرتے تھے۔لیکن رسالہ ایک غلطی کا ازالہ کے زمانہ ( ۱۹۰۱ء) سے آپ نے اس تاویل کو ترک کر دیا تھا۔چنانچہ آپ اس رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہیئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔مگر نبوت کے معنی اظہار ا مر غیب ہے۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں۔یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ں میں اپنے متعلق نبی اور رسول ہونے سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے میرے یہ نام رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کر دوں۔“ ایک غلطی کا ازالہ مندرجه تبلیغ رسالت جلده اصفحه ۱۸،۱۷) ایک غلطی کا ازالہ کی یہ عبارت مولوی خالد محمود صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ ۲۶ پر االه