مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 103
(1+r) مقام خاتم است معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسُول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سواب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ معنوی طور پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے امتی نبی ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا۔اگر آپ نے نبوت سے انکار کیا ہے تو مستقل شریعت لانے والا یا مستقل ( یعنی براہِ راست بغیر پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ) نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔پس جس نبوت کا آپ انکار کرتے ہیں اور جسے خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کے منافی یقین کرتے رہے ہیں، وہ صرف تشریعی نبوت اور مستقلہ نبوت ہے۔غیر تشریعی امتی نبی ہونے سے معنوی طور پر آپ نے کبھی انکار نہیں کیا۔لہذا جو تبدیلی انکشاف جدید سے واقع ہوئی، وہ نبوت کی اس تاویل میں ہے کہ آپ اتنی نبی بمعنی محدث ہیں۔اس تبدیلی کی فرع یہ ہے کہ جب تک حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام اپنے آپ کو امتی نبی بمعنی مُحدَّث قرار دیتے رہے اُس وقت اگر آپ پر حضرت عیسی علیہ السّلام سے آپ کے افضل ہونے کا کوئی الہام نازل ہوتا تو آپ اس کی تاویل جو کی فضیلت قرار دیتے رہے۔لیکن جب آپ کو صریح طور پر نبی کہلانے کا مستحق ہونے کا انکشاف ہو گیا تو اس وقت آپ پر