مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 102 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 102

١٠٢ مقام خاتم الني نتين پس حضرت اقدس کے عقیدہ نبوت میں تبدیلی صرف ایک تاویل کی تبدیلی ہے ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنے آپ کو محدّث کی تاویل کے ساتھ انتی نبی کہتے تھے۔اور بعد میں آپ نے محدث کی تاویل کے ساتھ اپنے آپ کو امتی نبی نہیں کہا بلکہ امتی نبی ہونے میں اپنی شان اور مقام محدثین آمت سے بالا قرار دی۔اور آپ کو محض محدث قرار دینا درست نہیں سمجھا۔چنانچہ ایک غلطی کا ازالہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔اگر بروزی معنوں کے رُو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - سویا درکھنا چاہیے کہ ان معنوں کے رُو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اُس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدّث رکھنا چاہئیے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار امرغیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنے اظہار ا مرغیب ہے۔“ اس تاویل کی تبدیلی کے باوجو د چونکہ آپ کی نبوت کی کیفیت شروع دعویٰ سے یہ تھی کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے اہم امور غیبیہ پر بکثرت اطلاع دیا جانے کی وجہ سے نہسی کا نام دیا ہے اور مامور ہونے کی وجہ سے رسُول قرار دیا ہے مگر بغیر شریعت جدیدہ کے، اس لئے کیفیت کے لحاظ سے آپ کے دعوئی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔اسی لئے ایک غلطی کا ازالہ “ میں آپ نے لکھا:۔و جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان