مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 82
مقام خاتم است ہوئے اور ایک وہ بھی ہوا جو انتی بھی ہے اور نبی بھی۔اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔اسرائیلی نبیوں کو الگ کر کے باقی تمام لوگ اکثر موسوی امت میں ناقص پائے جاتے ہیں۔رہے انبیاء سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت موسیٰ سے کچھ نہیں پایا بلکہ وہ براہِ راست نبی کئے گئے۔مگر اُمت محمدیہ میں سے ہزار ہا لوگ محض پیروی کی 66 وجہ سے ولی کئے گئے۔“ (حقیقۃ الوحی حاشیه صفحه ۳۸) (ج) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام کو تشریعی نبی بھی نہیں مانتے۔چنانچہ آپ تو رات کی مثیل موسیٰ کی پیشگوئی کو عیسائیوں کے حضرت عیسی پر چسپاں کرنے کی تردید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پیشگوئی کا مصداق ثابت کرنے کے لئے لکھتے ہیں:۔" حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ذرہ مناسبت نہیں۔نہ وہ پیدا ہو کر یہودیوں کے دشمنوں کو ہلاک کر سکے نہ وہ اُن کے لئے کوئی نئی شریعت لائے۔نہ انہوں نے بنی اسرائیل کے بھائیوں کو بادشاہت بخشی۔انجیل کیا تھی وہ صرف توریت کے چند احکام کا خلاصہ ہے جس سے پہلے یہود بے خبر نہیں تھے گو اس پر کار بند نہیں تھے۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحه ۱۹۹) پس حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام تشریعی نبی نہیں تھے۔اور انجیل صرف توریت کے احکام کا خلاصہ تھی نہ کہ کوئی جدید شریعت۔