مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 83
مولوی خالد محمود صاحب کے ایک مطالبہ کا جواب مولوی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں کہ :۔مقام خاتم انا اس معنی اور مفہوم کو جب مرزا غلام احمد بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم سمجھتے ہیں اور اپنی نبوت کو ایک نئی اصطلاح قرار دیتے تھے تو مرزائی مبلغین پر لازم تھا کہ مرزا صاحب کے دعوی کے مطابق اس نئی قسم کی نبوت پر کوئی ایک آیت پیش کرتے “ ( عقيدة الامة صفحه ) مولوی خالد محمود صاحب! ہم نے تو نئی قسم کی نبوت یعنی امتی نبوت کے ثبوت میں آیت مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ پیش کر دی ہے۔آپ بھی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی ہی مانتے ہیں۔اس لئے ہمارا اب آپ سے یہ مطالبہ ہے کہ آپ کسی آیت سے حضرت عیسی علیہ السلام کے امت محمدیہ میں اتنی نبی کی حیثیت میں آنے کا بالتصریح ثبوت پیش کریں۔ہم نے جو آیت پیش کی ہے اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس آیت کریمہ میں ایک نئی قسم کے نبی کے پیدا ہونے یا مبعوث ہو سکنے کی اُمید دلائی گئی ہے۔کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والوں کو ہی نبوت ملنے کا ذکر ہے۔اس آیت میں تشریعی نبوت کے اجراء کا بھی کوئی احتمال نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جب اس کے لئے شرط ہے تو ایسا شخص تشریعی نبی تو ہو ہی نہیں سکتا۔