مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 81
مقام خاتم النی صفات خاصہ میں حصہ دار ٹھہرا کر تو حید باری پر دھبہ لگاتے اور اس کے حُسنِ وحدانیت کی چمک کو شراکت غیر سے تاریکی کے ساتھ بدلتے ہیں اور پھر دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیض سے ایسا محروم جانتے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ چراغ نہیں بلکہ مُردہ چراغ ہیں۔جن کے ذریعہ سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہوسکتا۔وہ اقرار رکھتے ہیں کہ موسیٰ نبی زندہ چراغ تھا جس کی پیروی سے صدہا نبی چراغ ہو گئے اور مسیح اسی کی پیروی تمہیں برس تک کر کے اور توریت کے احکام کو بجالا کر اور موسیٰ کی شریعت کا جوا اپنی گردن پر لے کر نبوت کے انعام سے مشرف ہوا۔مگر ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی کسی کو کوئی رُوحانی انعام عطانہ کر سکی۔“ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت اقدس اس جگہ اپنا یہ عقیدہ بیان نہیں کر رہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام موسیٰ علیہ السّلام کی پیروی سے نبوت کے انعام سے مشرف ہوئے بلکہ اسے بعض غیر احمدی علماء کا اقرار قرار دے رہے ہیں۔آپ کا اپنا عقیدہ اس بارہ میں یہ ہے کہ:۔اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی اُمت میں بہت سے نبی گزرے ہیں۔پس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونالازم آتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں اُن سب کو خدا نے براہِ راست چن لیا تھا حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ دخل نہیں تھا۔لیکن اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء