مالی قربانی ایک تعارف — Page 120
مالی قربانی 120 ایک تعارف توفیق وغیرہ ملے تو اس موقع پر شکرانہ کے طور پر تعمیر بیوت الذکر کی مد میں حسب توفیق چندہ کی ادائیگی کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔ہر ملک اس چندہ کی رقم کو مرکزی امانات میں رکھے گا۔اور مرکز کی ہدایت پر اسکی ترسیل کا انتظام کرے گا۔صدقات احادیث میں آیا ہے کہ صدقہ رڈ بلا ہے۔کسی حاجت مند کی ضرورت پورا کرنے سے اللہ تعالیٰ ضرورت پوری کرنے والے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے راستے کھولتا اور اس کیلئے سامان بہم پہنچاتا ہے۔صدقہ انفرادی طور پر بھی دیا جا سکتا ہے اور جماعتی نظام کے تحت بھی دیا جا سکتا ہے۔جماعتی نظام کے تحت امداد گندم، امداد مریضان اور امدادطلبا و غیرہ صدقہ ہی کی اقسام ہیں۔صدقہ کی مد میں چندہ دینے سے مرکز مستحقین کی بر وقت مدد کر سکتا ہے۔چندہ کی طرح صدقہ کی رقم بھی بغیر رسید لئے ہر گز نہیں دینی چاہیئے۔مریم شادی فنڈ شادی بیاہ اور وفات وغیرہ کے مواقع پر جن رسومات میں معاشرہ جکڑا ہوا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے افراد جماعت کو اس سے آزادی دلائی۔پس جہاں ایک طرف ہمارے لئے ان رسومات سے بچنا ضروری ہے وہاں دوسری طرف جب ہم خوشی اور شادی بیاہ کے مواقع پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی استطاعت کے مطابق اخراجات کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیئے کہ ہمارے معاشرہ کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اس قسم کے مواقع پر بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ایسے لوگوں کی ان بنیادی ضرورتوں کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے خطبہ جمعہ فرموده ۲۱ فروری ۲۰۰۳ ء میں ایک فنڈ کا اجراء فرمایا اور بعد ازاں اسے مریم شادی فنڈ کا نام عطا فرمایا۔اس فنڈ میں آنے والی رقوم سے غریب اور ضرورت مند والدین کو ان کی بچیوں کی شادی کیلئے امداد دی جاتی ہے۔حضور نے اس فنڈ کا اجراء کرتے ہوئے فرمایا:۔" میں شکر نعمت کے طور پر اپنی والدہ مرحومہ کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں۔آپ غریبوں کی