مالی قربانی ایک تعارف — Page 119
مالی قربانی 119 ایک تعارف تعداد کا جائزہ لیں جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں، پڑھائی نہ کر سکتے ہوں، کھانے پینے کے اخراجات مشکل ہوں اور پھر مجھے بتائیں خاص طور پر افریقن ممالک میں اسی طرح بنگلہ دیش ہے، ہندوستان ہے اس طرف کافی کمی ہے توجہ دینے کی ضرورت ہے تو با قاعدہ ایک سکیم بنا کر اس کام کو شروع کریں اور اپنے اپنے ملکوں کے یتامی کو سنبھالیں۔مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے مالی لحاظ سے مضبوط حضرات اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور انشاء اللہ ہمیں ان کو سنبھالنے کے جو اخراجات ہیں ان میں کوئی کمی کبھی پیش نہیں آئے گی۔(لیکن امراء جماعت یہ کوشش کریں کہ یہ جائزے، یہ تمام تفاصیل زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک مکمل ہو جائیں اور اس کے بعد مجھے بھجوائیں)۔اللہ تعالیٰ ان سب کو توفیق دے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم یتانی کا جو حق ہے وہ ادا کر سکیں۔۔" تعمیر بیوت الذکر خطبه جمعه ۲۳ / جنوری ۲۰۰۴ء) تعمیر بیوت الذکر کیلئے مرکز اپنے بجٹ میں ہر سال رقم مختص کرتا ہے مگر پھر بھی وہ رقم جماعتی ضرورت کو پورا نہیں کرتی ، تعداد میں اضافہ کے ساتھ ضرورت بھی بڑھتی ہے اور تعمیر کے اخراجات بھی کافی آجاتے ہیں۔بہت سی جماعتیں خوشی سے اس ضرورت کو مقامی طور پر پورا کرتی ہیں ان کے سامنے یہی بات ہوتی ہے کہ اگر ہم اپنے گھر خود بنا سکتے ہیں تو خدا کا گھر بھی اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی بنائیں گے۔لیکن جس جماعت کے احباب مالی کمزوری کے سبب دقت محسوس کرتے ہیں اور مدد کے خواہاں ہوتے ہیں ، مرکز اپنی مختص رقم میں سے ان کی جزوی یا کلی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تاہم یہ ضرورت ہر سال بڑھتی رہنے والی ہے اس لئے وہ احباب جن کو خدا تعالیٰ نے مال کے ساتھ یہ سوچ بھی عطا کی ہے کہ مقامی ضرورت کے ساتھ ساتھ مرکز کی بھی اس سلسلہ میں مدد کرنی چاہیئے ، ان کیلئے سہولت ہے کہ وہ اس مد کے تحت مرکز کے لئے رقوم جمع کروا سکتے ہیں۔کوئی خوشی پہنچے، نئی نوکری میسر آئے ، نوکری میں ترقی حاصل ہو یا نیا مکان بنانے کی