مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 121 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 121

مالی قربانی 121 ایک تعارف بہت ہمدرد تھیں۔غریب بچیوں کے جہیز کا انتظام کیا کرتی تھیں اور بہت سی ایسی بچیاں تھیں یا دوسری غریب جن کے جہیز کا آپ نے ہمیشہ انتظام فرمایا ان کی یاد میں اور ان کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر میں یہ۔۔۔۔اعلان کرتا ہوں کہ جن کی بیٹیاں بیاہنے والی ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔وہ بے تکلفی سے مجھے لکھیں ان کا مناسب گزارہ ہو جائے گا اور جہیز کی رسم کسی حد تک پوری ہو جائے گی۔اگر میرے اندر اتنی توفیق نہ ہوتو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ کی جماعت غریب نہیں ہے بہت روپیہ ہے جماعت کے پاس۔تو انشاء اللہ جماعت کے کسی فنڈ سے ان کی امداد کر دی جائے گی مگر ان کو تو فیق مل جائے گی کہ ان کی بیٹیاں خیر و خوبی کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں۔" الفضل انٹر نیشنل لندن ۲۸ / مارچ تا ۳ را پریل ۲۰۰۳ء) سیدنا بلال فنڈ احمدیت کیلئے اپنی جان کی قربانی پیش کر نیوالے شہداء کے خاندانوں کی کفالت کیلئے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء کے خطبہ جمعہ میں ایک فنڈ کا اعلان فرمایا، اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ میں جماعت کو یہ بھی تسلی دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے جماعت احمد یہ میں کوئی بھی خدا کی راہ میں مارا جانے والا ہر گز یہ وہم لے کر یہاں سے رخصت نہیں ہوتا کہ میرے بیوی بچوں کا کیا بنے گا۔جماعت احمدیہ میں ایسے لوگوں کے بچے یتیم نہیں ہوا کرتے۔یہ ایک زندہ جماعت ہے اور یہ ناممکن ہے کہ جماعت اپنے قربانی کرنے والوں کے اہل وعیال کو اور ان کے حقوق کو بھول جائے۔ایسی جماعتوں کی زندگی کی ضمانت اس بات میں ہے کہ ان کے قربانی کرنے والوں کو اپنے پسماندگان کے متعلق کوئی فکر نہ رہے۔اس فنڈ کی عظمت اور اس کی اہمیت کے بارہ میں حضور نے فرمایا کہ یہ ہرگز صدقہ کی تحریک نہیں بلکہ جو شخص اس میں حصہ لے گا وہ اسے اعزاز سمجھے گا اور خیال کرے گا کہ مجھے جتنی خدمت کرنی چاہیئے تھی اتنی نہیں کی بلکہ بہت ہی معمولی خدمت کی توفیق پائی ہے۔