ملفوظات (جلد 9) — Page 42
پھر وہ انسان تو کتّے سے بھی بد تر ہے جو انسان ہو کر احسان شناسی سے کام نہیں لیتا۔میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان نادان، تنگ خیال اور سفلہ مزاج ملاؤں سے نفرت اور پرہیز کریں جو بغاوت پسند ہیں اور ناحق خون کر کے غازی بنتے ہیں۔۱ میری جماعت کے ہر فرد کو لازم ہے کہ وہ گورنمنٹ کی قدر کریں اور پوری اطاعت اور وفاداری کے ساتھ اس کے احسانات کے شکر گذار ہوں اور یقیناً سمجھ لیں کہ جو شخص مخلوق کا شکر نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گذار بھی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے پنجاب کو منتخب کرنے کی حکمت غرض اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے اس سلسلہ کو گورنمنٹ انگلشیہ کی حکومت میں قائم کیا جو آزادی پسند اور امن دوست گورنمنٹ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے یہ دوسرا احسان ہے کہ اس نے اس سلسلہ کو پنجاب میں قائم کرنا پسند فرمایا اور اس سر زمین کو اس کے لیے منتخب کیا۔ہندوستان بھی تو تھا پھر کیا وجہ ہے اور اس میں کیا حکمت ہے کہ پنجاب کو ترجیح دی؟ اس میں جو حکمت ہے وہ تجربہ سے معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب کی زمین نرم ہے اور اس میں قبول حق کا مادہ ہندوستان کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔مجھے کئی مہینے تک دلّی اور دوسری جگہ رہنے کا اتفاق ہوا ہے مگر انہوں نے قبول نہیں کیا اور برخلاف اس کے پنجاب میں لوگوں نے مجھے اس وقت قبول کیا جب دوسروں نے نہیں کیا حالانکہ میں نے ان کو اپنے دعوے کے دلائل سنائے قرآن اور حدیث کو ان کے سامنے پیش کیا، نشانات پیش کئے مگر انہوں نے نہیں مانا (اِلّا ماشاء اللہ)پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس ملک میں اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا۔علاوہ بریں یہ ملک حق رکھتا تھا کہ یہ سلسلہ قائم ہو کیونکہ چالیس پچاس برس تک سکھوں کا دھکا کھا چکا تھا۔بچوں کو تو ان دکھوں اور تکلیفوں کی خبر نہیں اور میں بھی اس وقت بچہ تھا۔اس لیے پورا علم تو نہیں مگر جس قدر علم مجھے ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے رؤیت کا علم ۱ بدر سے۔’’ان کے کام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھو۔‘‘(بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ءصفحہ ۹)