ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 41

ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو اس قدر اقبال مندی اور غیر ملکوں پر اس قدر فتوحات نہیں دیتا جب تک اس میں خوبی نہ ہو اور یہ تو ایک کھلی کھلی بات ہے کہ اس وقت اگر گورنمنٹ نہ ہو تو سب کے سب آپس ہی میں لڑ کر مَر جاویں یہ ایسا ثالث ہے کہ اس نے اپنے انصاف اور اقبال سے باہمی جھگڑوں سے بچا لیا ہے۔ہماری جماعت کا ہر ایک آدمی سوچ کر دیکھ لے کہ کیا اس کا کسی اور جگہ گذارہ ہو سکتا ہے۔وہ اگر اس سلطنت کے سایہ میں نہ ہو تو اس کے دشمن اسے قسم قسم کے عذاب دے کر ہلاک کر دیں۔اگر کوئی جاہل یہ سمجھے کہ ہاں کسی اور جگہ گذارہ ہو سکتا ہے تو میں اسے حیوانات میں سمجھتا ہوں۔دن رات ہم اپنے منصب کی وجہ سے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں کہ عیسائی مذہب کی غلطیوں سے لوگوں کو آگاہ کریں اور ہم اس کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن گورنمنٹ کو باوجود عیسائی ہونے کے کوئی تعلق نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے جو اس نے ہمارے لیے ظاہر کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ جس درخت کا نشو و نما کرنا چاہتا ہے۔اس کے لیے اچھی زمین تجویز ہوتی ہے جہاں وہ لگایا جاتا ہے اور اس کی آب پاشی اور نشو و نما کے دوسرے سامان وہاں ایسے بہم پہنچائے جاتے ہیں اور جسے ستیاناس کرنا چاہتا ہے اسے ایسی زمین میں جگہ ملتی ہے جہاں وہ کچلا جاتا ہے۔پس اسی طرح پر یہ بیج جو ہمارے سلسلہ کا بیج ہے ایسی زمین میں لگایا گیا ہے جو اس کی ترقی اور نشو و نما کے لیے بہت ہی مفید اور مبارک ہے کیونکہ یہاں کوئی آفت اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ اپنے دشمنوں سے محفوظ ہے اور اس کا بڑا بھاری ذریعہ یہ گورنمنٹ ہے جبکہ یہ احسان ہم پر ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس احسان شناسی کے بعد اس کا شکریہ ادا کریں کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ(الرحـمٰن:۶۱) اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ مسلمان احسان کرے تو اس کے بدلہ میں احسان کرو اور اگر غیر مذہب والا کرے تو نیش زنی کرو۔یہ تو خبیث کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ کوئی ہو جو احسان کرتا ہے اس کے ساتھ احسان کرنا فرض ہے۔احسان کی تو یہ طاقت ہے کہ اگر ایک کتّے کو تم ٹکڑا ڈال دو تو وہ بار بار تمہاری طرف آئے گا خواہ تم اسے مار کر بھی نکالو مگر وہ تمہیں دیکھ کر اس احسان کے شکریہ کے لیے دم ہلا دے گا۔