ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 43

ہوتا ہے۔اس وقت اگر بانگ دی جاتی تو اس کی سزا بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوتی تھی کہ بانگ دینے والا قتل کیا جاوے۔حالانکہ یہ لوگ جانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جب وہ سنکھ وغیرہ بجاتے ہیں تو ہم کبھی ان کے مزاحم نہیں ہوتے اور نہ انہیں تکلیف دیتے ہیں مگر بانگ سے انہیں ایسی ضد تھی کہ جونہی کسی نے دی وہ قتل کیا گیا جس جگہ میں اس وقت کھڑا ہوں یہ کارداروں کی جگہ تھی اور دارالحکومت نہیں بلکہ دارالظلم تھا۔جب انگریزی عدالت کا شروع شروع میں دخل ہوا۔اس وقت یہاں ایک کاردار رہتا تھا۔۱ اس کا ایک سپاہی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا۔اس نے ملّاں کو کہا کہ بانگ دے۔مگر ملّاں نے بہت ہی آہستہ آہستہ بانگ کہی۔سپاہی نے کہا کہ اونچی آواز سے کیوں بانگ نہیں دیتا جو دوسروں تک بھی پہنچ جاوے؟ ملّاں نے کہا میں اونچی آواز سے بانگ کیوں کر دوں کیا میں پھانسی چڑھوں؟ اس پر سپاہی نے کہا کہ نہیں ، تو کوٹھے پر چڑھ کر بہت اونچی آواز سے بانگ دے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سلطنت کی تبدیلی ہو چکی ہے۔آخر جب ملّاں نے سپاہی کے کہنے سے بلند آواز سے اذان دی تو ایک شور مچ گیا اور کاردار کے پاس جا کر شکایت کی کہ ہمارے آٹے بھرشٹ ہوگئے اور ہم اور ہمارے بچے بھوکے رہے۔ہم پر ظلم ہوا۔اس پر کاردار نے کہا کہ اچھا پکڑ لاؤ۔ملّاں کو پکڑ کر لے گئے۔وہ نیک بخت سپاہی بھی ملّاں کے پیچھے پیچھے گیا۔جب ملّاں کاردار کے سامنے گیا تو کاردار نے اس سے پوچھا کہ تو نے بانگ دی ہے؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں دی بانگ تو میں نے دی ہے۔جب کاردار نے یہ سنا تو اس نے شکایت کرنے والوں کو کہا کہ اندر جا کر بیٹھو۔لاہور میں تو گائے ذبح ہوتی ہے۔۲ اذان بھی ایک اسلامی دعوت ہے اور اس حالت میں اسلام کی اجمالی دعوت ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کا کیا مطلب ہے؟ یہی کہ مسلمان ہو جاؤ۔مگر یہ لوگ اسلام کے دشمن ۱ بدر سے۔’’ابتدا میں انگریزوں کا دخل پنجاب پر ہوا اور ہنوز لوگوں کو عام خبر نہ تھی اور کار دار وہی پرانے تھے اور مقامِ عدالت بھی وہی تھے کہ ایک مسلمان سپاہی باہر سے یہاں قادیان میں آیا اور ایک مسجد میں نمازپڑھنے گیا۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ءصفحہ ۹) ۲ بدر سے۔’’گورنمنٹ انگریزی کی پہلی برکت تھی جو کہ ہم کو حاصل ہوئی تھی۔کیونکہ بانگ دعوتِ اسلام کا ایک طریقہ ہے جو مختصر الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ءصفحہ ۹)