ملفوظات (جلد 9) — Page 327
وقت کروڑ ہا روپیہ بھی ایک گھونٹ کے بدلے دینے کو تیار ہوتا ہے اور آخر بڑی حسرت سے مَرتا ہے۔دنیا کی دولت چیز ہی کیا ہے؟ جس کے لیے انسان مارا مارا پھرتا ہے۔ذرا سی بیماری آجاوے۔پانی کی طرح روپیہ بہایا جاتا ہے مگر سکھ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں آتا۔جب یہ حال ہے تو انسان کی یہ کس قدر غفلت ہے کہ اس حقیقی کار ساز کی طرف توجہ نہ کرے جس کا بنایا ہوا یہ سب کار خانہ ہے اور اس کا ذرّہ ذرّہ جس کے تصرف اور اختیار میں ہے۔صحبت صادقین فرمایا۔لوگ تلاش کرتے ہیں کہ ہمیں حقیقت ملے۔لیکن یہ بات جلد بازی سے حاصل نہیں ہوا کرتی۔جب انسان کی روح پگھل کر آستانہءِ الوہیت پر گرتی ہے اور اسی کو اپنا اصل مقصود خیال کرتی ہے تب اس کے لیے حقیقت کا دروازہ بھی کھولا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اور صحبت صادقین سے یہ باتیں حاصل ہوا کرتی ہیں۔دنیا داری کا انجام فرمایا۔لوگ دنیا کا حساب و کتاب کس قدر محنت سے یاد رکھتے ہیں لیکن عمر کا حساب نہیں رکھتے اور خیال بھی نہیں کرتے کہ اب عمر کا کس قدر حصہ باقی رہ گیا ہے اور اس کا اعتبار کیا ہے۔فرمایا۔دنیادار دنیا کے ہمّ و غم میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ انجام کا اسے بھولے سے بھی خیال نہیں گذرتا اور جس طرح ایک خارش والا بس نہیں کرتا جب تک کہ خون نہ نکل آوے۔اسی طرح وہ بھی سیر نہیں ہوتا اور کتے کی طرح اپنا خون آپ پیتا ہے اور جانتا نہیں کہ دنیا کی زندگی چیز ہی کیا ہے۔اسی واسطے اللہ کریم نے مسلمانوں کو غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ(الفاتـحۃ:۷) والی دعا سکھائی ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کے کیڑے ہوتے ہیں اور اسی دنیا کی خاطر رسولوں اور نبیوں کا انکار کر دیتے ہیں اور پھر اسی دنیا میں ہی ان پر عذاب نازل ہوتا ہے ان میں شامل ہونے سے بچا۔یہ بڑے خطرہ کا مقام ہے۔دیکھو! اب تو مَرنے کے لیے نئے نئے سامان پیدا ہوگئے ہیں۔بہت سی ایسی بیماریاں نکل آئی ہیں جو بالکل نئی ہیں اور پھر طاعون کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔گھر کے گھر خالی ہوگئے ہیں