ملفوظات (جلد 9) — Page 328
اور دنیا میں ایک تباہی آگئی ہے۔۱ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر) الہام کا دعویٰ کرنے والے لوگ فرمایا۔ہماری جماعت میں کوئی بیس پچیس بلکہ تیس کے قریب ایسے آدمی ہوں گے جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں۔مجھے ان کے جنون کا ہی اندیشہ رہتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنی حالت کا مطالعہ کرے اور اپنے اس معاملہ کو دیکھے جو وہ خدا کے ساتھ رکھتا ہے اور حدیث النفس کا خیال نہ رکھے۔ایسے لوگوں کے خط جب مجھے آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ میں خوش ہووں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کو جنون نہ ہو جاوے۔جب وہ خط میں پڑھتا ہوں تو بدن کانپ جاتا ہے اللہ کریم نے کاہنوں اور مجنونوں کی جو تردید کی ہے تو اسی واسطے کہ آخر ان کو بھی بعض باتیں معلوم ہو جایا کرتی ہیں۔انسان کو چاہیے کہ اپنے تعلق کو خدا سے پاک کرے۔زانی، فاسق، فاجر تو ابھی توبہ کر سکتے ہیں مگر ایسے لوگ کبھی توبہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں اور ایسی باتوں سے اکڑ باز ہوجاتے ہیں۔الزامی جواب دینے کی وجہ فرمایا۔موقع کے مناسب حال بعض اوقات الزامی جوابات دینے پڑتے ہیں۔جب دل بہت دُکھایا جاتا ہے تو عیسائیوں کو متنبہ کرنے کے لئے کہ اگر جواب انہیں باتوں کو کہا جاتا ہےتو ایسا جواب ہم بھی دے سکتے ہیں۔انہیں کی کتابوں سے وہ باتیں پیش کی جاتی ہیں اور ایسے جواب قرآن مجید میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔وہ جواب صرف پادریوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ورنہ حضرت عیسٰیؑ کو ہم خدا کا رسول اور خدا کا مقبول اور برگزیدہ سمجھتے ہیں۔۲