ملفوظات (جلد 9) — Page 326
جانتا ہے اور وہی ثواب پہنچانے والا ہے۔جب یہ بات ثابت ہے کہ مُردوں کو بھی ثواب مل جاتا ہے تو پھر تفصیلوں کی کیا ضرورت ہے؟ ایک صحابیؓ کا بیٹا دعا مانگا کرتا تھا کہ یا اللہ! مجھے بہشت بھی دے اور انار اور انگور بھی دے۔صحابیؓ نے کہا کہ جب بہشت مل گیا تو انار انگور سب چیزیں اسی میں آگئیں۔اس کی تفصیلوں کی ضرورت کیا ہے؟ اس عالم کی تفصیلیں ہو نہیں سکتیں۔وہ تو ایک پوشیدہ اور مخفی عالم ہے۔انسان کا اصل مقصد دین ہے فرمایا۔آج کل دنیا کی عجیب حالت ہو رہی ہے۔تم لوگ اچھی طرح سے نظر ڈال کر دیکھ لو۔شہروں اور بازاروں میں جا کر دیکھ لو۔لاکھوں اور کروڑوں آدمی اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر محض دنیا کی خاطر مارے مارے پھرتے ہیں۔ایسے آدمی تھوڑے نکلیں گے جو دین کی غرض سے پھرتے ہوں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے تو یہی دعا سکھلائی تھی کہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۷) کہ یا الٰہی وہ راہ دکھا اور اسی راہ پر چلنے کی توفیق دے جس پر چلنے سے منعم علیہ گروہ میں شامل ہوجاویں۔اصلی مقصد انسان کا تو دین ہونا چاہیے اسی واسطے میں کہتا ہوں کہ جو لوگ یہاں دین کی خاطر آتے ہیں ان کو کچھ دن ضرور ٹھہرنا چاہیے۔شاید کوئی مفید کلمہ ان کے کانوں میں پڑ جاوے بعض لوگوں کی کوششیں اور تدبیریں محض دنیا کمانے کی خاطر ہوتی ہیں۔یہاں تک کہ بڑی بڑی پنشنیں پالیتے ہیں لیکن پھر بھی بس نہیں کرتے۔اندر ہی اندر اس جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ اب کوئی خطاب ہی مل جاوے لیکن جونہی یہ مال متاع چھوٹتا نظر آتا ہے اور موت سر پر آجاتی ہے تب ہاتھ ملتے ہیں۔کہ اوہو یہی دنیا تھی جس کے لیے ہم مارے مارے پھرتے تھے اور ہر وقت اسی کے فکر اور غم میں مبتلا رہتے تھے اور اس وقت سخت دکھ اور پریشانی ہوتی ہے اور اسی میں جان نکل جاتی ہے۔فرمایا۔جب ایک چیز کی کثرت ہو جاوے تو پھر اس کی قدر نہیں رہتی۔پانی اور اناج جیسی کوئی چیز نہیں اور یہ سب چیزیں آگ، ہوا، مٹی، پانی ہمارے لیے نہایت ہی ضروری ہیں مگر کثرت کی وجہ سے انسان ان کی قدر نہیں کرتا۔لیکن اگر جنگل میں ہو اور کروڑ ہا روپیہ بھی پاس ہو۔مگر پانی نہ ہو تو اس