ملفوظات (جلد 9) — Page 319
کے مستحق ہیں کیونکہ نہ ان کی ماں ہے نہ باپ اور خدا فرماتا ہے اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ(اٰلِ عـمران:۶۰) اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت عیسٰیؑ کے بے باپ ہونے سے خلقت کو دھوکا لگنے کا اندیشہ تھا اس لیے خدا نے آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کر کے ایک نظیر پہلے ہی سے قائم کر دی تھی، لیکن اگر اس کے آسمان پر جانے والی بات بھی صحیح مانی جاوے تو چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی ایک نظیر قائم کر دیتا۔اب بتلاؤ جبکہ خدا نے آسمان پر جانے کی کوئی نظیر پیش نہیں کی تو پھر اسی سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے آسمان پر جانے والی کہانی محض جھوٹی ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کفّار نے سوال کیا تھا کہ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ (بنی اسـرآءیل:۹۴) یعنی آسمان پر چڑھ جاؤ تو خدا نے یہی جواب دیا تھا کہ بشر آسمان پر نہیں جا سکتا جیسے فرمایا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسـرآءیل:۹۴) اگر بشر آسمان پر جا سکتا تھا تو چاہیے تھا کہ کفّار نظیر پیش کر دیتے۔افسوس کہ ان لوگوں نے بے وجہ پادریوں کی مدد پر کمر باندھ لی ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے بشر تو آسمان پر جا نہیں سکتا مگر عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چلے گئے اس لیے وہ خدا ہیں تو پھر منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔اتنا نہیں سمجھتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ایک کمزور اور عاجز انسان تھے اور خدا کے رسول تھے ایک ذرّہ بھی اس سے زیادہ نہ تھے۔اگر وہ خدا تھا تو یہ بارِ ثبوت عیسائیوں پر ہے کہ وہ کوئی سورج، چاند یا زمین کا پتا دیویں جو اس نے بنائی تھی۔وہ بےچارے تو ایک مچھر بھی پیدا نہیں کر سکتے تھے۔قرآن مجید میں تو صاف لکھا ہے کہ وہ ایک عبد تھے کھانے پینے اور دوسرے حوائج کے محتاج تھے اور دوسرے نبیوں کی طرح وفات پاگئے تھے۔سوال نمبر۵۔ایسے موقع پر مسلمان معراج پیش کر دیتے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے ہوا تھا وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ تھا بلکہ وہ ایک اَلْطف اور نہایت ہی نورانی وجود تھا۔کس کس غلطی کی اصلاح کی جاوے۔بخاری میں صاف طور پر ثُمَّ اسْتَیْقَظَ لکھا