ملفوظات (جلد 9) — Page 320
ہے یعنی پھر وہ جاگ اٹھے۔اب بتلاؤ ہم یہ بات کس طرح مان لیں کہ وہ یہی وجود تھا۔ہمارا تو تجربہ ہے کہ پاک لوگوں کو ایک نورانی وجود ملتا ہے۔یاد رکھو! ایک الہام ہوتا ہے اور ایک رؤیا اور کشف بھی ہوتا ہے۔کشف رؤیا سے بڑھ کر ہوتا ہے۔صاحبِ کشف جانتا ہے کہ میں ایک اور جگہ پر ہوں اور وہ دوسروں کی آواز بھی سنتا ہے۔صوفیاء کرام اس بات کے قائل ہیں کہ اولیاء اللہ کو ایک نوری جسم ملتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے دوسرے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں اور سب صوفی اس بات کے بھی قائل ہوتے ہیں کہ وحی کا سلسلہ بند نہیں ہوتا بلکہ ظلی طور پر انسان نبی بن سکتا مگر کمزوری کے ساتھ وحیِ دل کہہ دیتے ہیں۔خوب یاد رکھو کہ وہ یہ وجود نہیں تھا جو معراج میں تھا بلکہ وہ ایک اَور ہی وجود ہوتا ہے۔اسی سے انسان مُردوں سے بھی ملاقات کرتا ہے اور اس کا نمونہ کسی قدر خواب میں بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کا یہ وجود تو چارپائی پر ہوتا ہے مگر ایک آنکھیں ہوتی ہیں جن سے دیکھتا ہے اور ایک پاؤں ہوتے ہیں جن سے چلتا ہے اور خواب کو موت کی بہن بھی اسی واسطے کہا گیا ہے کہ اس سے اس عالم کی کسی قدر سمجھ آجاتی ہے۔جب بخاری جیسی کتاب میں ثُمَّ اسْتَیْقَظَ لکھا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بھی یہی مذہب ہے تو ہمیں کیا بنی ہے جو یونہی کچھ کا کچھ پیش کر دیا کریں۔معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کا مذہب بھی یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج اس وجود سے نہیں ہوا تھا بلکہ وہ ایک اور نورانی وجود تھا ورنہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی مخالفت میں شور برپا کرتے۔۱ ۱۹؍اکتوبر۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) مجدّد کی ضرورت فرمایا۔طرح طرح کے نشانات اور موجودہ حالات زمانہ کے اور صدی کا سر سب کے سب ضرورتِ مجدّد ثابت کر رہے ہیں اور مجدّد کا کام اپنے زمانہ