ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 318

آئے تھے اس کو پورا کر کے دکھا دیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو صلیب کا ہی منہ دیکھتے پھرے اور یہودیوں سے رہائی نہ پاسکے۔مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالب ہو کر وہ اخلاق دکھائے جن کی نظیر نہیں۔سوال نمبر۳۔عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو قرآن شریف میں کلمۃاور رُوْحٌ مِّنْهُ لکھا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔ہم بھی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو مسِّ شیطان سے پاک سمجھتے اور دوسرے نبیوں کی ارواح کی طرح اس کی روح کو بھی رُوْحٌ مِّنْهُ مانتے ہیں اور يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ (الاعراف:۱۵۹) پر یقین رکھتے ہیں۔مگر اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسرے انبیاء سے کوئی فضیلت تو ثابت نہیں ہو سکتی۔آپ ہی بتائیں کہ ہر ایک شخص رُوْحٌ مِّنْهُ ہوتا ہے یا کسی اور طرف سے؟ سب ارواح خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اسی کی طرف سے ہوتی ہیں نہ کہ کسی اور طرف سے۔ہاں اس میں ایک لطیف اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ فاسقوں، فاجروں کی ارواح کو بسبب ان کے فسق و فجور اور شرک کی گندگی کے رُوْحٌ مِّنْهُ نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ روح الشیطان ہوتے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ (بنی اسـرآءیل:۶۵) اور اس طرح سے ہم مانتے ہیں کہ بعض روح الشیطان ہوتے ہیں اور بعض رُوْحٌ مِّنْهُ ہوتے ہیں بعض آدمی ایسے خراب ہوتے ہیں کہ وہ نہایت ہی خبیث الفطرت اور شیطان خصلت ہوتے ہیں۔ان سے توقع ہی نہیں ہو سکتی کہ وہ کبھی رجوع الی اللہ کر سکیں۔ایسے لوگوں پر رُوْحٌ مِّنْهُ کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ وہ روح الشیطان ہوتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جو رُوْحٌ مِّنْهُ یا کلمۃ کا لفظ بولا گیا ہے تو وہ بطور ذبّ اور دفع کے ہے اور اس الزام کو دور کیا گیا ہے جو ان پر لگایا گیا تھا ورنہ کل راستباز اور نیکو کار لوگ رُوْحٌ مِّنْهُ ہی ہوتے ہیں۔سوال نمبر ۴۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو خدا نے بے باپ پیدا کیا تھا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔اگر بے باپ پیدا ہونا دلیلِ الوہیت اور ابنیت ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بدرجہ اولیٰ اس