ملفوظات (جلد 9) — Page 301
تم سے بہتر جانتی ہے۔فرمایا۔ایک بزرگ کے پاس دو شیعہ آئے اور اپنے آپ کو سنّی ظاہر کیا اور اس بزرگ سے سوال کیا کہ اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ کے کیا معنے؟ انہوںنے جواب دیا کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے شیعہ پن سے توبہ کرو اور سچے دل سے سنّی مسلمان ہوجاؤ۔مثالی صبر و شکر فرمایا۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ مبارک احمد کا مَرنا ہمارے واسطے کسی سخت رنج اور صدمہ کا سبب ہوا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ اس واقعہ پر خدا تعالیٰ نے کس قدر تشفّی اور تسلّی اور اپنی خوشنودی کا اظہار اپنی پاک وحی کے ذریعہ سے کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمارے صبر اور شکر اور والدہ مبارک احمد کے صبر پر جو خوشی کا اظہار کیا ہے اور فتح و نصرت کے وعدے دیئے ہیں اور فرمایا ہے کہ خدا تیرے ہر قدم کے ساتھ ہوگا۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ والدہ مبارک احمد نے کہا کہ خدا کا خوش ہوجانا مجھے ایسا پیارا ہے کہ اگر دو ہزار مبارک احمد مَر جائے تو مجھے اس کا غم نہیں۔حلم کی تعلیم ایک دوست کو حضرت نے ایک مخالف کو کسی موقع پر سمجھانے کے واسطے تاکید کی۔فرمایا۔وہ مانے یا نہ مانے، آپ تبلیغ کا حق ادا کریں۔کیونکہ جو شخص تبلیغ کرتا ہے اس کو بہرحال ثواب مل جاتا ہے اور تم یہ امید نہ رکھو کہ مخالف تمہارے ساتھ خوش خلقی یا تہذیب سے پیش آئے گا۔کیونکہ وہ تو مخالف ہے۔ہم کو بُرا جانتا ہے اس کے دل میں ہمارا ادب نہیں۔جب تک کہ وہ دشمن ہے اس کے دل میں نہ ہمارا ادب ہو سکتا ہے نہ اعزاز اور نہ خیر اندیشی اور نہ وہ منصف مزاجی سے گفتگو کر سکتا ہے۔ایک دفعہ ایک ایلچی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔وہ بار بار آپ کی ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھاتا تھا اور حضرت عمرؓ تلوار کے ساتھ اس کا ہاتھ ہٹاتے تھے آخر حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یہ ایسی گستاخی کرتا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کو قتل کر دوں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تمام گستاخی حلم کے ساتھ برداشت کی۔سرشتِ زمین فرمایا۔سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ اور جہلم کے اضلاع کی سر زمین اپنے اندر اسلامی سرشت کی خاصیت رکھتی ہے۔ان اضلاع میں بہت لوگوں نے حق کی