ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 286

تھے۔یاد رکھو جس شخص نے خدا کے ساتھ کچھ حصہ شیطان کا ڈالا وہی منافق ہے۔فرمایا۔قرآن شریف میں ہماری جماعت کی نسبت لکھا ہے۔وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ(الـجمعۃ:۴) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ میں سے ایک اور گروہ بھی ہے مگر ابھی وہ ان سے ملے نہیں۔ان کے اخلاق، عادات، صدق اور اخلاص صحابہؓ کی طرح ہوگا۔جماعت کے مبلّغین کی صفات میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ اب دیر کی جاوے۔چاہیے کہ ایسے آدمی منتخب ہوں جو تلخ زندگی کو گوارا کرنے کے لیے تیار ہوں اور ان کو باہر متفرق جگہوں میں بھیجا جاوے۔بشرطیکہ ان کی اخلاقی حالت اچھی ہو۔تقویٰ اور طہارت میں نمونہ بننے کے لائق ہوں۔مستقل، راست القدم اور بردبار ہوں اور ساتھ ہی قانع بھی ہوں اور ہماری باتوں کو فصاحت سے بیان کر سکتے ہوں۔مسائل سے واقف اور متقی ہوںکیونکہ متقی میں ایک قوتِ جذب ہوتی ہے۔وہ آپ جاذب ہوتا ہے۔وہ اکیلا رہتا ہی نہیں۔جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔اس نے پہلے ازل سے ہی ایسے آدمی رکھے ہیں جو بکلی صحابہؓ کے رنگ میں رنگین اور انہیں کے نمونہ پر چلنے والے ہوں گے اور خدا کی راہ میں ہر طرح کے مصائب کو برداشت کرنے والے ہوں گے اور جو اس راہ میں مَر جائیں گے وہ شہادت کا درجہ پائیں گے۔دین کی حقیقت اللہ تعالیٰ نرے اقوال کو پسند نہیں کرتا۔اسلام کا لفظ ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے ایک بکرا ذبح کیا جاتا ہے ویسے ہی انسان خدا کی راہ میں جان دینے کے لیے تیار رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم آئی اور کہنے لگی کہ ہمیں فرصت کم ہے۔ہماری نمازیں معاف کی جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دین ہی نہیں جس میں نمازیں نہیں۔جب تک عملی طور پر ثابت نہ ہو کہ خدا کے لئے تکلیف گوارا کر سکتے ہو تب تک نرے اقوال سے کچھ نہیں بنتا۔نصاریٰ نے بھی جب عملی حالت سے لا پروائی کی تو پھر ان کی دیکھو کیسی حالت ہوئی کہ کفّارہ جیسا مسئلہ بنا لیا گیا۔