ملفوظات (جلد 9) — Page 287
صدق دل سے ایک ہی قدم میں ولی بن سکتے ہو اگر آدمی صدق دل سے محض خدا کے لیے قدم اٹھائے تو میرا ایمان ہے کہ پھر بہت برکت ہوگی۔میں تو جانتا ہوں کہ وہ اولیاء اللہ میں داخل ہو جائے گا۔یاد رکھو ایک قدم سے ہی انسان ولی بن جاتا ہے جب غیر اللہ کی شراکت نکال لی بس عباد الرحمٰن میں داخل ہوگیا۔جب اس کے دل میں محض خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں تو پھر ایسے کو ہی ہم ولی کہتے ہیں دیکھو! صادق کے واسطے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔اس میں ایک کشش ہوتی ہے وہ خالی جاتا ہی نہیں۔دنیا کی زندگی کا آرام ہو۔ہر طرح سے آسودگی اور عیش و عشرت کے سامان ہوں یہ ایمانی اصول کے مخالف پڑا ہوا ہے۔ایمانی اصول تو چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کا نہ دن نہ رات کوئی وقت آرام سے گذرتا ہی نہیں۔ایک مرحلہ مصائب کا اگر طے کرتے ہیں تو دوسرا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔کاش اگر صحابہؓ کی طرح بعد میں آتے تو ایک بھی کافر نہ رہتا مگر وہ دل نہ ہوئے جو اُن کے تھے وہ اخلاص اور صدق نہ ہوا جو اُن کا تھا وہ تقویٰ اور استقلال نہ رہا جو اُن کا تھا۔تبلیغ کا صحیح طریق ہماری جماعت کے لوگ گو مالی امداد میں تو کچھ فرق نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ تو ہر اَمر میں آزمانا چاہتا ہے۔اب تلوار کی بجائے گالیاں کھا کر صبرکرنا چاہیے۔چاہیے کہ بڑی نرمی اور خوش خلقی سے لوگوں پر اپنے خیالات ظاہر کئے جاویں۔بہ نسبت شہروں کے دیہات کے لوگوں میں سادگی بہت ہے اور ہمارے دعویٰ سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔اگر ان کو نرمی سے سمجھایا جاوے تو امید ہے کہ سمجھ لیں گے۔جلسوںکی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی بازاروں میں کھڑے ہو کر لیکچر دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔چاہیے کہ ایک ایک فرد سے علیحدہ علیحدہ مل کر اپنے قصے بیان کئے جاویں۔جلسوں میں تو ہار جیت کا خیال ہو جاتا ہے۔چاہیے کہ دوستانہ طور پر شریفوں سے ملاقات کرتے رہیں اور رفتہ رفتہ موقع پاکر اپنا قصہ سنا دیا۔بحث کا طریق اچھا نہیں بلکہ ایک ایک فرد سے اپنا حال بیان کیا اور بڑی آہستگی اور نرمی سے