ملفوظات (جلد 9) — Page 285
بہت فائدہ ہوتا ہے اور جب بچپن سے ہی ان طالب علموں کے کانوں میں صالح اور راستباز استادوں کی آواز پڑتی ہے تو اس سے وہ متاثر ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ دینداری کی طرف ترقی کرتے رہتے ہیں۔غرض یہ سچی بات ہے کہ اس مدرسہ کی بنا فائدہ سے خالی نہیں۔اگر تین یا چارسو لڑکا تعلیم پاتا ہو تو اتنی امید ہے کہ تیس یا چالیس ہماری منشا کے مطابق بھی نکل آویں گے۔صحابہ رضی اللہ عنہم کا نمونہ اختیار کرو مگر جو بات ہم چاہتے ہیں وہ اس سے پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ خواہ کچھ ہی ہو یہ باتیں ملونی سے خالی نہیں۔ہمارا مطلب اس بات کے بیان کرنے کا یہ ہے کہ خدا جس نمونہ پر اس جماعت کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا نمونہ ہے۔ہم تو منہاجِ نبوت کے طریقہ پر ترقیات دیکھنی چاہتے ہیں۔موجودہ کارروائی کو خالص کارروائی نہیں کہہ سکتے۔ہزار ہا مرتبہ رائے زنی کی جائے اصل میں جیسا کہ میں نے کل کہا تھا ابھی تو پانی کے ساتھ پیشاب کی ملونی ہے۔غرض اس طرح کی تعلیم ہماری ترقیات کے لیے کافی نہیں۔ہمارے سلسلہ کو تو صرف اخلاص، صدق اور تقویٰ جلد تر ترقی دے سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ایک لاکھ سے متجاوز تھے۔میرا ایمان ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی ملونی والا ایمان نہ تھا۔ایک بھی ان میں سے ایسا نہ تھا جو کچھ دین کے لیے ہو اور کچھ دنیا کے لیے بلکہ وہ سب کے سب خدا کی راہ میں جان دینے کے لیے تیار تھے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ(الاحزاب:۲۴)۔منافق کون ہوتا ہے جو لوگ ملونی والے ہوتے ہیں ان کو خدا نے منافق کہا ہے۔بیعت کرنے والوں کو خوش نہیں ہونا چاہے۔کیونکہ منافق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ ملونی کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو منافق تھے اگر وہ اس زمانہ میں ہوتے تو بڑے بزرگ اور مومن سمجھے جاتے۔کیونکہ شَر جب بہت بڑھ جاتا ہے تو اس وقت تھوڑی سی نیکی کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے۔وہ لوگ جن کو منافق کہا گیا ہے اصل میں وہ بڑے بڑے صحابہؓ کے مقابل پر منافق