ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 284

۲۵؍ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر) جماعت کے مبلغین کے لیے ضروری صفات حضرت اقدس نے فرمایا۔ایک تجویز کی تھی۔اگر راست آجاوے تو بڑی مراد ہے۔یونہی عمر گذرتی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں ایک کا بھی نام نہیں لے سکتے جس نے اپنے لیے کچھ حصہ دین کا اور کچھ حصہ دنیا کا رکھا ہو اور ایک صحابی بھی ایسا نہیں تھا جس نے کچھ دین کی تصدیق کر لی ہو اور کچھ دنیا کی بلکہ وہ سب کے سب منقطعین تھے اور سب کے سب اللہ کی راہ میں جان دینے کو تیار تھے۔اگر چند آدمی ہماری جماعت میں سے بھی تیار ہوں جو مسائل سے واقف ہوں اور ان کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ قانع بھی ہوں تو ان کو باہر تبلیغ کے لیے بھیجا جاوے۔بہت علم کی حاجت نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ سب اُمّی ہی تھے۔حضرت عیسٰیؑ کے حواری بھی امی تھے۔تقویٰ اور طہارت چاہیے۔سچائی کی راہ ایک ایسی راہ ہے جو اللہ تعالیٰ خود ہی عجیب عجیب باتیں سجھا دیتا ہے۔بچوں کو تعلیم کے لیے مرکز بھجوانے کا فائدہ لوگ جو اپنے لڑکوں کو تعلیم دینے کے لیے یہاں کے سکول میں بھیجتے ہیں اگرچہ وہ اچھا کرتے ہیں اور یہ اچھا کام ہے مگر وہ محض للہ نہیں بھیجتے۔کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ جو سرکاری تعلیم اور جماعت بندی اور دوسرے قواعد دیگر سکولوں میں ہیں وہی یہاں بھی ہیں اور یہاں بھیجتے وقت دنیاوی تعلیم کا بھی خصوصیت سے خیال رکھ لیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو تعلیم دوسرے سکولوں میں ہے وہی یہاں ہے مگر تاہم بھی نیک نیتی کی بنا پر یہ سب عمدہ باتیں ہیں اور اس سے کچھ عمدہ نتیجہ ہی نکلنے کی توقع ہے اور یہاں کے سکول میں تعلیم پانے سے اتنا فائدہ تو ضرور ہے کہ دن رات نیکوکاروں اور صادقوں کی صحبت میں رہنا پڑتا ہے۔عمدہ عمدہ کتابوں اور ہماری تصانیف کے پڑھنے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے اور مولوی (نور الدین) صاحب کی عمدہ عمدہ باتوں اور نصیحتوں اور درس کے سننے سے